کار سرکار مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10،10 سال قید

Calender Icon جمعرات 29 اکتوبر 2026

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ 2024 کے ایک مقدمے میں جیل میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل ڈالنے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے سے متعلق تھا۔

دونوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹیم کے روٹ سے رکاوٹیں ہٹائی تھیں۔ رواں ماہ 7 اکتوبر کو دونوں پر فردِ جرم عائد کی گئی، جس کے بعد ان کے وکلا کی جانب سے صحتِ جرم سے انکار پر باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔ فیصلے سے قبل دونوں اس مقدمے میں ضمانت پر تھے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے آج اڈیالہ جیل میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔عدالت نے 3 مختلف دفعات کے تحت سزا کا حکم دیتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

عدالت کی جانب سے کیس میں اسٹیٹ کونسل مقرر کیا گیا تھا، اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے گواہان پر جرح کی ، پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر کیس میں 7 گواہان کو پیش کیا گیا تھا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف 25 اکتوبر 2024 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، دونوں اس کیس میں ضمانت پر تھے۔

گزشتہ روز شیریں مزاری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھا کہ میری بیٹی ایمان اور ان کے شوہر کو محروم طبقات، لاپتا افراد اور فراموش کر دیے جانے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور انصاف کی جدوجہد کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

اب نہ صرف وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت بلکہ عدلیہ بھی انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق منصفانہ کارروائی اور انصاف سے محروم کر رہی ہے۔

وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ رواں سال 23 جنوری کو گرفتاری کے بعد سے جیل میں قید ہیں، انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کرنے اور مبینہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بدسلوکی کے الزام میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاستدانوں اور صحافیوں نے تنقید کرتے ہوئے دونوں کے منصفانہ ٹرائل کے حق پر زور دیا تھا۔

سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت دونوں کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

17 ستمبر کو عدالتوں میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ان کی اپیلوں پر حتمی فیصلہ آنے تک انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم یہ ریلیف زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے ایک دوسرے مقدمے میں دونوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا اور انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، جس نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

نئے مقدمے میں دونوں کی گرفتاری وفاقی دارالحکومت کے کوہسار تھانے میں 22 مارچ کو گزشتہ برس سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج ایف آئی آر کی بنیاد پر عمل میں آئی۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور ایف آئی آر میں دونوں کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم مقدمہ درج کیے جانے کے وقت انسداد دہشتگردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی کوئی دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:آئرش کرکٹ کو بڑا دھچکا، لیگ اسپنر بین وائٹ نے ریٹائرمنٹ لے لی

ایف آئی آر میں دفعہ 188 سرکاری ملازم کی جانب سے قانونی طور پر جاری کیے گئے حکم کی خلاف ورزی، دفعہ 341 کسی شخص کو ناجائز طور پر روکنا، دفعہ 506 مجرمانہ دھمکی کی سزا، دفعہ 353 سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال اور دفعہ 186 سرکاری ملازم کو سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات شامل تھیں۔