کیا پاکستان تحریک انصاف(PTI) کے بانی چیئرمین عمران خان اپنی ہی جماعت کی خیبر پختونخوا حکومت سے لاتعلق ہوچکے تھے؟ یہ سوال ان دنوں سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے خصوصاً اس پس منظر میں کہ جب صوبائی حکومت کے غیرفعال ہونے اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں تو توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان اس صورتِ حال پر سخت ردعمل دیں گے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف کے 2 اہم مرکزی رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ بیرسٹر سلمان صفدر سے ملاقات کے دوران جب عمران خان کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے اس معاملے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔
لیکن آخر عمران خان اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت سے اس قدر مایوس کیوں ہوئے اور وہ کون سی توقعات تھیں جو پوری نہ ہوسکیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کے مطابق سنہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد عمران خان نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ پہلے علی امین گنڈاپور اور بعد ازاں سہیل آفریدی سے انہیں توقع تھی کہ وہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان کی رہائی اور سیاسی مشکلات کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کریں گے۔
تاہم پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کو پارٹی کارکنوں اور بیشتر قیادت نے محض دکھاوا سمجھا جبکہ سہیل آفریدی بھی اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کے معاملے پر سنجیدہ دکھائی نہیں دیے۔
پارٹی قیادت کے مطابق تقریباً ڈھائی سال تک خیبر پختونخوا حکومت سے عمران خان کی جو توقعات وابستہ رہیں وہ پوری نہ ہوسکیں اور بالآخر ان کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔
مزیدپڑھیں:گرینڈ حیات ٹاور اسکینڈل کی تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آگئی، اربوں روپے کی مبینہ کرپشن بے نقاب
پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما اور سابق صوبائی وزیر کے مطابق سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد عمران خان کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئیں حالانکہ انہیں سہیل آفریدی سے بھی بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔
کیا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت عمران خان کے لیے سیاسی بوجھ بن گئی تھی؟
سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں جب مختلف صوبائی محکموں سے متعلق بدعنوانی کے اسکینڈلز سامنے آنے لگے تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ان کا دفاع کرنا بھی مشکل ہوگیا۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق عمران خان عملی سیاست اور زمینی سیاسی سرگرمیوں کو اہمیت دینے والے رہنما ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں زمینی سطح پر کوئی قابلِ ذکر سیاسی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرنا خود عمران خان کے لیے بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس حکومت کو اپنے لیے سیاسی بوجھ سمجھنے لگے تھے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض غیرفعال اراکین اسمبلی کی کوشش ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت بحال کروا کر ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کیا جائے۔
تاہم پارٹی کے دو اہم رہنماؤں کے مطابق حکومت کی بحالی کے لیے اراکین اسمبلی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو سمجھوتا کرنا پڑ سکتا ہے، وہ ممکنہ طور پر عمران خان کے بنیادی سیاسی اصولوں سے متصادم ہوگا۔
یوں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی بحالی کا معاملہ بھی تحریک انصاف کے لیے ایک سیاسی آزمائش بن گیا ہے، جہاں ایک طرف بعض اراکین اسمبلی دوبارہ اقتدار میں آنے کے خواہش مند ہیں تو دوسری جانب اس مقصد کے لیے ممکنہ سمجھوتے عمران خان کے سیاسی مؤقف سے ٹکرا سکتے ہیں۔













جمعرات 5 نومبر 2026 

