واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف کے شعبہ شہری حقوق کی سربراہ ہرمیت ڈھلون(Harmeet Dhillon) نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے وسط مدتی انتخابات کے بعد مستعفی ہونے والی پہلی اعلیٰ عہدیدار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ہرمیت ڈھلون نے اپنے 18 ماہ کے دور میں محکمہ انصاف کے شعبہ شہری حقوق کی پالیسیوں اور ترجیحات میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ ان کے دور میں تقریباً 300 مستقل وکلا نے محکمہ چھوڑ دیا، جبکہ ان کی جگہ نئے وکلا کی بھرتیاں کی گئیں۔
اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں ہرمیت ڈھلون کے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرمیت ڈھلون نے تمام امریکی شہریوں کے شہری حقوق کا دفاع کیا اور بلا امتیاز قانون پر عمل درآمد کرایا۔
رپورٹ کے مطابق ہرمیت ڈھلون نے شعبہ شہری حقوق کی توجہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایگزیکٹو احکامات پر عمل درآمد کی جانب منتقل کی۔ ان ترجیحات میں تعلیمی اداروں میں مبینہ نظریاتی تلقین کے خاتمے، خواتین کو صنفی نظریات سے متعلق انتہا پسندی سے تحفظ دینے اور یہود دشمنی سمیت مبینہ عیسائی مخالف تعصب کے خلاف اقدامات شامل تھے۔
مزیدپڑھیں:بشریٰ انصاری بیٹی کے سابق سسرال پر برس پڑیں
ان کے دور میں محکمہ انصاف نے وسط مدتی انتخابات سے قبل متعدد ریاستوں کے خلاف مقدمات دائر کیے اور ووٹرز کی معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ انتخابی عمل میں دھاندلی کے خدشات کے پیش نظر یہ معلومات ضروری ہیں، تاہم کئی ریاستی انتخابی حکام نے اس اقدام کی مخالفت کی اور عدالتوں نے محکمہ انصاف کے بعض مقدمات مسترد کر دیے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ شعبہ شہری حقوق نے متعدد جامعات اور قانون کے اداروں پر سفید فام اور ایشیائی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات بھی عائد کیے۔ اس کے علاوہ یو سی ایل اے اور ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف کیمپس میں یہود دشمنی کے مبینہ واقعات پر مقدمات دائر کیے گئے۔
ہرمیت ڈھلون ایک قدامت پسند وکیل اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی قیادت میں شعبہ شہری حقوق کی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلیوں نے امریکی محکمہ انصاف میں نمایاں بحث کو جنم دیا۔













جمعہ 6 نومبر 2026 
