خیبرپختونخوا میں ’پلیسر گولڈ‘ کی غیر قانونی مائننگ کب سے اور کہاں کہاں ہورہی ہے؟

Calender Icon جمعہ 6 نومبر 2026

خیبرپختونخوا میں دریائے سندھ کے کنارے ’پلیسر گولڈ‘(Gold) کی غیر قانونی کان کنی کے ذریعے روزانہ کم از کم 2 ہزار 600 تولہ 24 قیراط خالص سونا نکالا جا رہا ہے، جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق یومیہ مالیت ایک ارب 4 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اس حساب سے سالانہ کم از کم 3 کھرب 74 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کا سونا غیر قانونی طور پر نکالا جا رہا ہے، جس کے باعث صوبائی حکومت ممکنہ رائلٹی اور دیگر محصولات سے محروم ہورہی ہے، جبکہ قومی خزانے کو بھی بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے خیبرپختونخوا کے علاقے تربیلا سے پنجاب کے ضلع میانوالی کے شہر کالاباغ تک پھیلی 188 مربع کلومیٹر کی پٹی میں گزشتہ کئی برسوں سے پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔ اس سرگرمی میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صوبائی حکام اسے روکنے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت نے دریائے سندھ کے ساتھ واقع اس پٹی کو 4 حصوں (بلاکس) میں تقسیم کر رکھا ہے۔ بلاک اے 49 کلومیٹر طویل ہے، جو ضلع ہری پور کے علاقے تربیلا سے شروع ہو کر ضلع صوابی میں موٹروے تک پھیلا ہوا ہے۔ بلاک بی ضلع صوابی میں موٹروے کے مقام سے شروع ہو کر ضلع نوشہرہ کے علاقے اٹک پل تک جاتا ہے، جس کی لمبائی 50 کلومیٹر ہے۔

بلاک سی اٹک پل سے ضلع کوہاٹ کے علاقے توئی بانڈہ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی 35 کلومیٹر ہے، جبکہ بلاک ڈی توئی بانڈہ سے شروع ہو کر کالاباغ کے مقام پر خیبرپختونخوا کی سرحد تک جاتا ہے، جس کی لمبائی 33 کلومیٹر ہے۔

پلیسر گولڈ اور اس کی مائننگ
پلیسر گولڈ، جسے آبرفتی سونا (Alluvial Gold) بھی کہا جاتا ہے، دراصل قدرتی طور پر دریاؤں، ندی نالوں، پہاڑی نالوں اور بعض اوقات ساحلی علاقوں کی ریت، بجری اور مٹی میں پایا جانے والا سونا ہے۔

پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی سے مراد دریاؤں، ندی نالوں اور ان کی تہہ میں موجود ریت، بجری اور مٹی سے سرکاری اجازت یا لائسنس کے بغیر سونے کے ذرات نکالنا ہے۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ اس عمل کے دوران عموماً پانی کے بہاؤ، چھلنیوں، پمپوں اور بھاری مشینری کی مدد سے ریت اور بجری کو دھویا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کے ذرات الگ ہو جاتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ سرگرمی سرکاری اجازت کے بغیر یا مقررہ قواعد و ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انجام دی جائے تو اسے غیر قانونی کان کنی قرار دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ، آبی حیات، زرخیز زمین اور ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ حکومت کو رائلٹی اور دیگر محصولات کی مد میں مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

مزیدپڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ سے پہلا بڑا استعفیٰ، ہرمیت ڈھلون عہدے سے مستعفی

’اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے سونے پر ڈیلرز ٹیکس کی ادائیگی سے بھی بچ جاتے ہیں اور ان کی آمدن بھی انکم ٹیکس کے دائرے سے باہر رہتی ہے۔‘

لِیز ہولڈنگ کمپنیاں
’وی نیوز‘ کو دستیاب دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا کے محکمہ مائنز اینڈ منرلز نے نومبر 2024 میں ان چاروں بلاکس کو 10 سال کے لیے لیز پر دیا تھا۔ بلاک اے کا ٹھیکہ گلوبہ کور، بلاک بی کا میگو کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، بلاک سی کا ہمالیہ ایکسپلوریشن، جبکہ بلاک ڈی کا ٹھیکہ شکردرہ منرل پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔

لیز پر دیے گئے بلاکس کی تفصیلات کے مطابق بلاک اے کو کھلی بولی کے ذریعے 10 سال کے لیے ایک ارب 25 کروڑ روپے میں لیز پر دیا گیا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) سے لازمی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل نہ کرنے کے باعث یہ لیز معطل کردی گئی۔

بعد ازاں اپیلٹ ٹریبونل نے 10 دسمبر 2025 کو لیز بحال کرنے کا فیصلہ دیا، جس کی روشنی میں صوبائی کابینہ نے 21 مئی 2026 کو اس کی بحالی کی منظوری دی۔ معاہدے کے تحت کمپنی نے 12 اقساط میں رقم ادا کرنی ہے، جن میں سے ہر قسط 7 کروڑ 96 لاکھ 87 ہزار روپے کی ہے۔ کمپنی اب تک 7 اقساط مقررہ وقت پر ادا کر چکی ہے، جبکہ ہر قسط کی ادائیگی 3 ماہ بعد کرنا ہوتی ہے۔

بلاک بی نومبر 2024 میں ایک ارب 26 کروڑ روپے میں لیز پر دیا گیا تھا۔ تاہم انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) سے این او سی حاصل نہ کرنے کے باعث یہ لیز بھی معطل کردی گئی، جسے بعد ازاں بحال کردیا گیا۔

بلاک سی کو کھلی بولی کے ذریعے ایک ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں لیز پر دیا گیا تھا۔ اقساط کی عدم ادائیگی پر یہ لیز معطل کردی گئی تھی، تاہم اب اسے مشروط طور پر بحال کردیا گیا ہے۔

اسی طرح بلاک ڈی کو ایک ارب 11 کروڑ 10 لاکھ روپے میں لیز پر دیا گیا تھا، جسے معطلی کے بعد دوبارہ بحال کردیا گیا۔

غیر قانونی مائننگ کب سے شروع ہوئی؟
دستیاب ریکارڈ کے مطابق بلاک اے اور بلاک بی میں اب تک پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی نہیں ہو رہی، تاہم ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں 2014 میں چھلنیوں کی مدد سے سونے کی غیر قانونی کان کنی کا آغاز ہوا تھا۔ 2020 تک چھلنیوں کے ذریعے سونا نکالنے والے افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔

’وی نیوز‘ کو دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی بلاک سی اور بلاک ڈی میں، یعنی اٹک پل سے کالاباغ تک کے علاقے میں جاری ہے۔

’بلاک سی، جو اٹک پل سے ضلع کوہاٹ تک پھیلا ہوا ہے، میں 2023 سے غیر قانونی کان کنی کا آغاز ہوا تھا، جو ابتدائی طور پر سینکڑوں ایکڑ رقبے تک محدود تھی۔ تاہم دسمبر 2025 تک کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس بلاک میں غیر قانونی کان کنی کا دائرہ بڑھ کر ایک ہزار 358 ایکڑ تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر تاحال اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں۔‘

اسی طرح بلاک ڈی میں بھی پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی کا آغاز 2023 میں ہوا تھا۔ اس وقت 40 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی کان کنی کی جا رہی تھی، تاہم اب اس کا دائرہ بڑھ کر 317 ایکڑ تک پہنچ چکا ہے۔ یہ غیر قانونی سرگرمی صرف حکومت کی جانب سے لیز پر دی گئی اراضی تک محدود نہیں بلکہ اس سے ملحقہ نجی ملکیتی اور مشترکہ (شاملاتی) اراضی پر بھی جاری ہے۔

اس کام سے وابستہ ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ معدنیات رکھنے والی نجی ملکیتی زمین بھی قانونی طور پر سرکاری اراضی تصور کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق زمین کے مالکان کو اپنی ملکیتی اراضی سے خود کان کنی کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی وہ اسے کان کنی کے لیے کسی دوسرے شخص کو ٹھیکے یا کرائے پر دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اس اراضی کو اگلے مرحلے میں لیز پر دینے کی منصوبہ بندی بھی کرلی ہے۔

معدنی ذخائر حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں اور انہیں لیز پر دینے کا اختیار بھی حکومت ہی کے پاس ہوتا ہے، جبکہ زمین کے مالکان کو صرف سرفیس رینٹ (Surface Rent) ادا کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے حکومت اور لیز حاصل کرنے والے کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پاتا ہے، جس کے بعد ٹھیکیدار اور زمین کے مالکان کے درمیان سرفیس رینٹ کی ادائیگی سے متعلق معاہدے کیے جاتے ہیں۔

ان معاہدوں میں زمین کے استعمال کے عوض مالکان کو ادا کی جانے والی رقم اور معاوضے کی تفصیلات طے کی جاتی ہیں، جبکہ زمین کے مالکان اس کے بدلے ٹھیکیدار کے کام میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ زمین کے مالکان کو سرفیس رینٹ ملتا ہے جبکہ مائنز کی ملکیت حکومت کے پاس ہوتی ہے۔

غیر قانونی مائننگ کہاں اور کیسے ہوتی ہے؟
حکومتی اداروں کی غفلت اور مجرمانہ خاموشی کے باعث اراضی مالکان دریائے سندھ سے متصل اپنی زمین 100 سے 150 میٹر فرنٹ کے حساب سے کرائے پر دے دیتے ہیں۔ دریا کے ساتھ واقع اس فرنٹ کے پیچھے کی اراضی پر مالکان فی ایکسکیویٹر کے حساب سے رقم وصول کرتے ہیں، جو ماہانہ 7 لاکھ سے 15 لاکھ روپے فی ایکسکیویٹر تک ہوتی ہے۔

محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ایک افسر کے مطابق پلیسر گولڈ کی سب سے زیادہ غیر قانونی کان کنی بلاک سی میں ہو رہی ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار 900 ایکسکیویٹرز کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہر ایکسکیویٹر کی مدد سے روزانہ ایک سے 2 تولے تک سونا حاصل کیا جاتا ہے۔

اس حساب سے صرف بلاک سی سے ماہانہ 57 ہزار سے ایک لاکھ 14 ہزار تولہ سونا غیر قانونی طور پر نکالا جاتا ہے۔

بلاک ڈی میں تقریباً 700 ایکسکیویٹرز کام کرتے ہیں جن کے ذریعے ماہانہ 21 ہزار سے 42 ہزار تولہ سونا نکالا جاتا ہے۔ اس طرح دونوں بلاکس سے مجموعی طور پر ماہانہ 78 ہزار سے لے کر ایک لاکھ 56 ہزار تولہ سونا غیر قانونی طور پر نکالا جا رہا ہے۔

فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ روپے کے حساب سے اس سونے کی کم از کم ماہانہ مالیت 31 ارب 20 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس طرح دونوں بلاکس سے سالانہ کم از کم 3 کھرب 74 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کا سونا غیر قانونی طور پر نکالا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ لیز پر دی گئی اراضی میں بھی غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق بلاک سی کے لیز ہولڈرز نے ایک اجلاس کے دوران سرکاری حکام کو آگاہ کیا کہ ہزاروں افراد ان کے لیے مختص لیز شدہ اراضی پر غیر قانونی طور پر کان کنی کر رہے ہیں، تاہم وہ ان افراد کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں لیز ہولڈرز کے ساتھ ساتھ سرکاری حکام بھی غیر قانونی کان کنی روکنے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اکتوبر میں محکمہ معدنیات نے تمام کمپنیوں کے معطل لائسنس بحال کرتے ہوئے لیز کے لیے معیاری ضابطہ کار (ایس او پیز) مقرر کیے، جن کے تحت کان کنی میں استعمال ہونے والے ہر ایکسکیویٹر کی صوبائی محکمہ ایکسائز میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔ اس کے علاوہ ہر ڈمپر اور آپریشن میں استعمال ہونے والی دیگر گاڑیوں کی جیو ٹیگنگ بھی لازمی ہوگی۔

نئے ضابطہ کار کے مطابق کان کنی سے حاصل ہونے والے خام سونے کی پروسیسنگ صرف جیو ٹیگ شدہ گولڈ روم میں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کلوز سرکٹ ٹیلی وژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی نگرانی میں مرکزی چیک پوسٹ قائم کی جائے گی، جہاں آپریشن میں استعمال ہونے والی ہر گاڑی کا معائنہ کیا جائے گا۔

مرکری کے زہریلے اثرات
مذکورہ بلاکس میں پلیسر گولڈ حاصل کرنے کے لیے مرکری (پارہ) استعمال کیا جاتا ہے، جو ایک انتہائی زہریلی دھات ہے۔ اس طریقہ کار میں سونے کے ذرات پر مشتمل ریت اور بجری میں مرکری شامل کیا جاتا ہے، جو سونے کے ساتھ مل کر ایک آمیزہ (Amalgam) بناتا ہے۔ بعد ازاں اس آمیزے کو گرم کیا جاتا ہے، جس سے مرکری بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور سونا الگ ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران خارج ہونے والے زہریلے بخارات انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق مرکری (پارے) کے بخارات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر اعصابی نظام، پھیپھڑوں اور گردوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مسلسل یا طویل عرصے تک ان بخارات کی زد میں رہنے سے ہاتھوں میں کپکپاہٹ، یادداشت کی کمزوری، نیند میں خلل، سر درد اور اعصابی و جسمانی افعال میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے مرکری کے اثرات خاص طور پر تشویش ناک ہیں، کیونکہ یہ بچوں کے دماغ اور اعصابی نظام کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔

مرکری (پارے) کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات صرف سونے کی کان کنی یا پروسیسنگ کے مقامات تک محدود نہیں رہتے بلکہ دریا اور اس کے آس پاس کے ماحول کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ جب مرکری دریا کے پانی یا اس کی تہہ میں موجود تلچھٹ (Sediment) میں شامل ہوتا ہے تو بعض خردبینی جاندار (Microorganisms) اسے میتھائل مرکری (Methylmercury) میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

یہ زہریلا مرکب آبی حیات، خصوصاً مچھلیوں کے جسم میں جمع ہوتا ہے اور غذائی زنجیر کے ذریعے انسانی جسم تک پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح آلودہ پانی اور مچھلیوں کے استعمال سے دریا کے کنارے آباد لوگوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایف آئی آرز کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟
خیبرپختونخوا کی فرنٹیئر مائنز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیربندی نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ محکمہ معدنیات کی مانیٹرنگ کمیٹی نے پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کے خلاف 2 ہزار سے زائد ایف آئی آرز درج کرائی ہیں، تاہم نہ تو پولیس اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کئی بااثر شخصیات غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف کوہاٹ کے ایک چھوٹے سے علاقے میں روزانہ 25 کروڑ روپے تک کے سونے کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور سونے کے ڈیلرز کے تمام متعلقہ افراد سے روابط ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے جن علاقوں کو لیز پر دیا ہے، ان کی مد میں ادائیگیاں ہو چکی ہیں، تاہم لیز شدہ علاقوں سے باہر کی اراضی پر جاری غیر قانونی کان کنی کے باعث صوبائی خزانے کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔

نیب کی انکوائری ختم، معطل لیزیں بحال
قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے چاروں بلاکس کی لیز سے متعلق انکوائری شروع کی تھی، تاہم محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے ڈائریکٹر جنرل کے پی ایس تیمور کے مطابق نیب کی کارروائی ختم ہو چکی ہے، جبکہ لیز ہولڈرز کی معطل شدہ لیزیں بھی بحال کردی گئی ہیں۔

ان کے مطابق غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کے خلاف اب تک 2 ہزار سے زیادہ ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی کان کنی کی روک تھام اور اس میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

نظام پور میں پلیسر گولڈ کی غیر قانونی مائننگ، ڈیزل کی اسمگلنگ جاری
ضلع نوشہرہ کے علاقے نظام پور کے گاؤں جبئی کے رہائشی رفیع اللہ نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ تندوری اور اس سے ملحقہ دیہات میں گزشتہ کئی برسوں سے پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔

ان کے مطابق پولیس نے ان علاقوں میں ڈیزل کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ غیر قانونی کان کنی میں استعمال ہونے والی ایکسکیویٹر مشینوں کو ایندھن فراہم نہ کیا جا سکے۔ تاہم اس پابندی کے باوجود ڈیزل ان علاقوں تک پہنچ رہا ہے، جہاں اسے عام قیمت سے 50 سے 60 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے کشتیوں کے ذریعے بھی ان علاقوں میں ڈیزل پہنچایا جاتا ہے۔

پلیسر گولڈ نے مقامی لوگوں کی قسمت بدل دی، بکروں کے صدقے کی روایت میں اضافہ
رفیع اللہ کے مطابق پلیسر گولڈ کی غیر قانونی کان کنی کے نتیجے میں علاقے کے متعدد مقامی افراد مالی طور پر خوشحال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کسی شخص کو بڑی مقدار میں سونا ملتا ہے تو وہ خوشی اور شکرانے کے طور پر بکرا صدقہ کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب علاقے میں بکروں کی تعداد زیادہ تھی، تاہم اب سونا ملنے پر صدقے کے لیے بکروں کی طلب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مقامی سطح پر ان کی دستیابی کم پڑنے کے باعث دوسرے علاقوں سے بکرے منگوانا پڑتے ہیں۔