رحیم یار خان : پنجاب کے شہر رحیم یار خان(Rahimyarkhan) کی تعلیم یافتہ 3 بہنوں نے ڈگری مکمل کرنے کے بعد مشکلات کے سامنے ہمت ہارنے کے بجائے اپنی محنت اور عزم سے کامیابی کی نئی مثال قائم کردی۔
فارمیسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی ان 3 بہنوں نے ملازمت کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور آج کامیابی سے فارمیسی چلا رہی ہیں۔
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کراچی کی ھمدرد یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی میں ڈاکٹر آف فارمیسی (فارم ڈی) میں داخلہ لیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس رحیم یار خان آگئیں، جہاں ان کے والد کی طبیعت خراب رہنے لگی اور انہیں گردوں کے مرض کی تشخیص ہوئی, کچھ ہی عرصے میں ان کا ڈائیلاسز بھی شروع ہوگیا اور بعد ازاں والد کے انتقال نے خاندان کو ایک بڑے معاشی اور جذباتی بحران سے دوچار کردیا۔
نجی ٹی وی کے نمائندے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں تینوں بہنوں نے اپنی جدوجہد کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق رحیم یار خان کے نواحی گاؤں باگو بہار سے ہے۔
والد نے بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنی ملازمت بھی تبدیل کی تاکہ تینوں بیٹیاں بہتر تعلیمی مواقع حاصل کرسکیں۔
بہنوں کے مطابق والد نے دن رات محنت کرکے انہیں تعلیم دلوائی اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کراچی کی وفاقی اردو یونیورسٹی میں ڈاکٹر آف فارمیسی (فارم ڈی) میں داخلہ لیا۔
مزیدپڑھیں:ب فارم یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ کیسے حاصل کریں ؟ نادرا کی وضاحت
والد کا سایہ سر سے چھن جانے کے بعد تینوں بہنوں کا کہنا تھا کہ فارم ڈی جیسی پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہیں امید تھی کہ اسپتالوں اور فارمیسیز میں اچھی ملازمت مل جائے گی، لیکن عملی صورت حال ان کی توقعات کے برعکس تھی۔
جہاں ملازمت ملنے کے امکانات تھے وہاں تنخواہیں بھی انتہائی کم تھیں، اسپتالوں اور مقامی فارمیسیز میں تربیت یافتہ خواتین فارماسسٹ بھرتی کرنے کا رجحان بھی نہیں تھا۔ ایسی صورت حال میں انہوں نے ملازمت کی تلاش میں مزید وقت گزارنے کے بجائے اپنے شعبے میں خود روزگار پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔
بہنوں کے مطابق مرحوم والد کی جمع پونجی اور کچھ قرض لے کر جنوری 2025 میں ایک فارمیسی قائم کی، جسے چلانے کے لیے دن رات محنت کی اور اب تقریباً دو سال سے اسے کامیابی کے ساتھ چلا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فارمیسی قائم کرنے کا مقصد صرف اپنے لیے روزگار پیدا کرنا نہیں بلکہ علاقے کے لوگوں کو بین الاقوامی رہنما اصولوں کے مطابق معیاری فارمیسی خدمات فراہم کرنا بھی ہے۔
تینوں بہنوں نے اپنی کامیابی کا سہرا مرحوم والد کو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچپن سے ہی انہیں خودمختار بنانے کے لیے بھرپور محنت کی تھی۔
ہمارے والد کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹیاں کسی کی محتاج نہ ہوں اور اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ آج ان کی محنت اور تربیت ہی ہم بہنوں کے لیے مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بنی ہے۔
علاقے کے ایک شہری نے بھی تینوں بہنوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ملازمت نہ ملنے پر مایوس ہونے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت فارمیسی قائم کی، جو نہ صرف کامیابی سے چل رہی ہے بلکہ مقامی لوگوں کو بھی فائدہ پہنچا رہی ہے۔













اتوار 8 نومبر 2026 