روس اور چینی دباؤ، تاجکستان نے بھارت کو عینی ائیربیس سے بے دخل کردیا ، نئی گریٹ گیم کا آغاز

Calender Icon پیر 3 نومبر 2025

دوشنبے : وسط ایشیا کے بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں تاجکستان نے بھارت سے عینی ائیربیس (Ayni Air Base) کا مکمل کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ یہ اقدام تقریباً دو دہائیوں بعد بھارت کی واحد غیر ملکی فضائی موجودگی کے خاتمے کا نشان ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اکتوبر 2025 میں حتمی طور پر نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں روس اور چین نے وسط ایشیا میں اپنی عسکری اور سیاسی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی کے لیے دھچکا ہے بلکہ اس کے علاقائی اثر و رسوخ میں بھی نمایاں کمی کا باعث بنے گا۔

عینی ائیربیس جسے فارخور-عینی کمپلیکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے تاجک دارالحکومت دوشنبے سے تقریباً 15 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس اڈے کی بنیاد سرد جنگ کے دور میں رکھی گئی تھی، جب سوویت یونین نے اسے اپنی فوجی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا۔ یہ اڈہ 1979 سے 1989 کے دوران افغانستان میں سوویت افواج کی کارروائیوں کے لیے بنیادی سپورٹ بیس کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔

1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد تاجکستان نے اس اڈے کا کنٹرول تو حاصل کر لیا، تاہم 1990 کی دہائی کی خانہ جنگی کے دوران ملک کی کمزور معیشت اور داخلی عدم استحکام کے باعث اسے سنبھالنا ممکن نہ رہا۔ اسی خلا کو بھارت نے پُر کیا اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں عینی ائیربیس کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری شروع کی، جسے وسط ایشیا میں بھارت کی دفاعی موجودگی کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

تاہم روس اور چین کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور خطے میں نئی اسٹریٹجک صف بندی کے باعث تاجکستان نے اب بھارتی فوجی موجودگی کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ وسط ایشیا میں ”نئی گریٹ گیم“ کی جانب اشارہ کرتا ہے، جہاں ماسکو اور بیجنگ خطے میں اپنی بالادستی بڑھا رہے ہیں، جبکہ بھارت کو اپنے جغرافیائی اثر و رسوخ کے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق عینی ائیربیس سے انخلا کے بعد بھارت کی نہ صرف افغانستان اور پاکستان پر فضائی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوگی بلکہ یوریشیائی سیکیورٹی تھیٹر میں اس کی پوزیشن بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔

اس فضائی اڈے کو آخری بار 2021 میں افغانستان سے بھارتی شہریوں کے انخلا کے دوران استعمال کیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عینی ائیربیس سے انخلا کے بعد  سے بھارت کا واحد بیرونِ ملک فوجی بیس ختم ہوگئی ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے عینی ائیربیس سے بھارتی انخلا کو بھارت کی اسٹریٹجک سفارت کاری کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری  جیرام رمیش نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اپنے غیر معمولی جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے بھارت عینی ائیربیس میں اپنی موجودگی بڑھانے کے بڑے منصوبے رکھتا تھا، مگر  بھارت سے اپنی موجودگی کم کرنے کا کہا گیا اور اب وہاں سے مکمل انخلا ہو چکا ہے‘۔

جیرام رمیش نے مزید کہا کہ ‘یہ واضح طور پر ہماری اسٹریٹجک سفارت کاری کے لیے ایک اور بڑا نقصان ہے‘۔