اسلام آباد : سینیٹ کے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے، پیپلز پارٹی بھی حکومت کی اہم اتحادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر ہم اپنے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ بیٹھے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ترمیم کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہی، 27ویں ترمیم آئین و قانون کے مطابق لائی جائے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ ترمیم پہلے سینیٹ میں پیش کی جائے اور قانون سازی کے عمل میں اتحادیوں کی مشاورت کو شامل کیا جائے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے اتحادی ہونے کا علم بلاول بھٹو کے ٹویٹ سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کمیٹی میں جائے گا، اور قومی اسمبلی کی کمیٹی بھی اس میں شریک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قدر سنجیدہ نہیں ہونا چاہئے کہ کاغذ پھاڑنے لگ جائیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 27ویں ترمیم حکومت خود لارہی ہے، یہ کہیں سے “پیراشوٹ” ہو کر نہیں آرہی۔ وزیرِ قانون کو چاہئے کہ ترمیم کو کمیٹی میں جانے دیں تاکہ جلد از جلد پیش کی جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔ 2013-14 میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، مگر ہم نے ماضی میں اس کے خاتمے کے لیے متعدد آپریشنز کیے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو واپس لانا اور بسانا بڑی غلطی تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے ہمیشہ کوشش کی، ہم اپنے تمام ہمسایوں سے بہترین تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان، ازبکستان اور افغانستان کا ٹرانس ریلوے منصوبہ خطے کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بارہا کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ امن کے فروغ میں کردار ادا کرنے پر امریکی صدر کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے مجھ سے سیز فائر کے لیے رابطہ کیا، جبکہ بھارت نے امریکہ کے ذریعے سیز فائر کی درخواست کی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو بیانیے کی جنگ میں بھی شکست ہوئی۔ پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارت کی صرف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بھارت نے اپنے جنگی طیارے گرنے کے بعد جھوٹا پروپیگنڈا کیا، جبکہ ہمارے شاہینوں نے بھارت کے سات طیارے مار گرائے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور قطر کی قیادت پاکستان سے مسلسل رابطے میں تھی۔ جعفر ایکسپریس واقعے میں ملوث دہشت گرد بھارت سے رابطے میں تھے۔
اسحاق ڈار کے مطابق امریکہ نے جو کردار ادا کیا، اس حوالے سے ایک خط بھی لکھا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کا خط 11 جون کو لکھا گیا، جب کہ 8:17 پر امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے کال کی کہ بھارت سیز فائر پر آمادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت کے خلاف آپریشن 4 بجے شروع ہوا اور 8 بجے ختم ہوا۔ بھارتی بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔ بھارت نے پاکستان پر 80 ڈرون حملے کیے، جن میں سے 79 ناکام بنائے گئے۔ صرف ایک ڈرون نے معمولی نقصان پہنچایا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ صدر ٹرمپ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور قطر نے اس دوران بھرپور رابطے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا 6 مئی سے 10 مئی تک کا کردار انتہائی فعال اور مؤثر تھا۔












منگل 4 نومبر 2025 