ایپل اور گوگل میں 1 ارب ڈالر کا معاہدہ، کیا ’سری‘ گوگل کے جیمنی اے آئی سے چلے گا؟

Calender Icon جمعرات 6 نومبر 2025

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل ایک دوسری ماریہ ناز ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے قریب ہے جس کے تحت آئی فون بنانے والی یہ کمپنی گوگل کو ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کرے گی۔

اس معاہدے کے تحت گوگل کے جیمنی اے آئی ماڈل کے ایک مخصوص کسٹم ورژن کے ذریعے ایپل اپنے ورچوئل اسسٹنٹ سری کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ قدم ایپل کے لیے ایک بڑا تغیر ہے، کیونکہ کمپنی روایتی طور پر اپنی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی رہی ہے۔

تاہم، فی الحال وہ گوگل کے ماڈل کو ایک عارضی حل کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جب تک کہ اس کا اپنا مصنوعی ذہانت کا نظام اتنا طاقتور نہ ہو جائے کہ وہ آنے والی فیچرز کی نئی فہرست کو خود چلا سکے۔

گوگل کا یہ حسبِ ضرورت تیار کردہ اے آئی ماڈل تقریباً 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہے، جو سافٹ ویئر کی پیچیدگی اور صلاحیت کا پیمانہ ہے۔

اس کے مقابلے میں ایپل کے موجودہ ایپل انٹیلیجنس ماڈل میں صرف 150 بلین پیرامیٹرز ہیں، یعنی گوگل کا ماڈل تقریباً 8 گنا زیادہ طاقتور ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایپل نے اس سال کے آغاز میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے ماڈلز پر بھی غور کیا تھا۔

تینوں کمپنیوں کے ماڈلز کی جانچ کے بعد، ایپل نے گوگل کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ نیا سری ممکنہ طور پر آئندہ بہارکے موسم میں لانچ کیا جائے گا، تاہم چونکہ اس میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں، اس لیے منصوبے میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔