اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکورٹی کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور مؤثر بنانے کے لیے بڑا اقدام سامنے آگیا ہے، 18 نومبر سے شہر کی ہر موٹر سائیکل اور ہر گاڑی پر ای ٹیگ لگانا لازمی ہوگا جبکہ شہریوں سے گھریلو معلومات بھی ایک نئی موبائل ایپ کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔
ضلع انتظامیہ اور پولیس نے ایک ہمہ گیر سیکورٹی اور نگرانی کا نظام متعارف کروایا ہے جس کے تحت 18 نومبر کے بعد اسلام آباد میں رجسٹرڈ تمام گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور شہر میں داخل ہونے والی بیرونی گاڑیاں ای ٹیگ کے بغیر نہیں چل سکیں گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہر گھرانے کو اپنی مکمل ذاتی معلومات انتظامیہ کے ساتھ شیئر کرنا ہوں گی۔
انتظامیہ نے اسلام آباد بھر میں مختلف مقامات پر باضابطہ مراکز قائم کیے ہیں، جہاں سے شہری اپنی گاڑیوں کے لیے ای ٹیگ اسٹیکرز حاصل کر سکیں گے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جائے گا اور تمام اسٹیکرز صرف سرکاری سینٹرز سے ہی جاری کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے بعد کیا گیا جس کے نتیجے میں سکیور نیبرہڈ سروے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سروے کے مطابق ہر گھر کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں رہائشی افراد کے نام، پتے، شناختی کارڈ نمبرز، گھریلو ملازمین کا مکمل ریکارڈ اور مکان مالک یا کرایہ دار کی حیثیت کی تفصیلات شامل ہیں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اپنی معلومات فوری درج کریں۔ 17 نومبر سے ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں گھروں کا دورہ کریں گی اور ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ٹیبلٹس کے ذریعے موقع پر ہی معلومات درج کریں گی۔ جن شہریوں نے پہلے ہی معلومات جمع کرا دی ہیں، انہیں دوبارہ اندراج کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ای ٹیگنگ کا یہ نظام نہ صرف اسلام آباد کی گاڑیوں پر لاگو ہوگا بلکہ دیگر صوبوں سے آنے والی تمام گاڑیوں کے لیے بھی لازمی ہوگا تاکہ شہر میں داخل ہونے والا ہر ٹریفک مکمل طور پر ریکارڈ اور کنٹرول میں لایا جا سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سیکورٹی میں اضافہ، ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
انتظامیہ ہر گھر کے جمع شدہ ڈیٹا کا ریکارڈ گوگل میپس کے ذریعے ٹریک کرے گی، جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کون سے گھروں نے ہدایات پر عمل کر لیا ہے۔
اگرچہ اس ڈیجیٹل سسٹم کو شہری انتظامات کی جدید ترین اصلاحات قرار دیا جا رہا ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اتنی حساس معلومات کا جمع کیا جانا چیلنجز سے خالی نہیں۔
ماضی میں پاکستان میں سرکاری ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط نظام بنایا جائے، ورنہ یہ اقدام الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔












ہفتہ 15 نومبر 2025 