کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان میں 18 سال غیر قانونی طور پر رہنے والی 65 سالہ سری لنکن خاتون ایدھی فاؤنڈیشن، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور انسانی حقوق کے وکیل ضیاء احمد اعوان کی مشترکہ کوششوں سے بالآخر اپنے بچوں کے پاس کولمبو واپس جا سکے گی۔
کراچی کے میٹھا در میں واقع ایدھی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کے دوران رشینہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے موجود سب لوگوں کا شکریہ ادا کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں غریب عورت ہوں۔ حکومتِ پاکستان نے مجھ پر 22 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ میں پاکستان میں ویزے کی مدت سے زیادہ رہی۔ میرے پاس تو واپسی کے ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں تھے، اتنے بھاری جرمانے کی ادائیگی کہاں سے کرتی؟ لیکن اللہ نے میرا سہارا بننے کے لیے یہ سب لوگ بھیجے جنہوں نے ایک بیوہ اور بے سہارا ماں کو اپنے یتیم بچوں سے ملوایا۔
زندگی کی کہانی،سری لنکا سے کویت، سعودی عرب، پھر پاکستان تک
رشینہ نے بتایا کہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں اور سری لنکا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کویت میں ایک ٹریول ایجنسی میں ٹیلیفون آپریٹر کی نوکری کی، جہاں ان کی ملاقات پنجاب کے میاں چنوں کے رہائشی جاوید اقبال سے ہوئی۔ دونوں میں محبت ہوئی اور شادی کر لی۔ بعدازاں وہ سعودی عرب منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے تقریباً 15 سال گزارے۔ ان کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں ممتاز اور انیشہ، جبکہ ایک بیٹا محمد رفاع۔
سعودی عرب میں جب ان کے شوہر کی ملازمت ختم ہوئی تو نوکری نہ ملنے پر انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا جبکہ رشینہ بچوں کے ساتھ سری لنکا بھجوا دی گئیں۔
میں بچوں کو کولمبو میں گھر والوں کے پاس چھوڑ کر شوہر سے ملنے پاکستان آئی لیکن ان کے گھر والوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ ہم کراچی آگئے اور کرائے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے لگے۔ میرے ویزے کی مدت ختم ہوئی تو میں واپس جانا چاہتی تھی مگر میرا شوہر شدید بیمار ہوگیا، اس کا جگر فیل ہو رہا تھا۔ پھر وہ 2007 میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد میں اکیلی رہ گئی اور واپس جانے کے قابل نہ تھی۔
کھانے کے لیے سیلانی، علاج کے لیے مدد، اور مذہب، زبان، خاندان سے دور طویل تنہائی
رشینہ نے بتایا کہ وہ کھانے کے لیے سیلانی ویلفیئر جاتی تھیں جہاں ان کی ملاقات انیس عبدالحفیظ سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے گھر ٹھہرایا۔ بعد میں دل کی بیماری کے باعث ان کی بائی پاس سرجری کرائی گئی جس کے تمام اخراجات سیلانی نے اٹھائے۔ قانونی مدد بھی دلانے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی راہ حل نہ نکل سکا۔
آخر میں مایوس ہو کر میں کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے لگی۔
ایدھی ، سیلانی اور ضیاء اعوان کی مشترکہ کوششیں رنگ لے آئیں
فیصل ایدھی نے بتایا کہ صحافیوں کی نشاندہی پر ان کے بیٹے سعد ایدھی نے رشینہ کے کیس پر توجہ دی اور قانونی مدد کے لیے وکیل ضیاء احمد اعوان سے رابطہ کیا۔
ضیاء اعوان کے مطابق ہم نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ پھر ہم سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں گئے، جہاں سیکریٹری داخلہ کو طلب کیا گیا۔ اس کے بعد رشینہ کا 22 لاکھ روپے جرمانہ معاف ہوا اور انہیں 15 دن میں پاکستان چھوڑنے کی اجازت مل گئی۔
سیلانی ویلفیئر پہلے ہی رشینہ کا سری لنکن پاسپورٹ تجدید کروا چکا تھا، اب صرف واپسی کا ٹکٹ درکار تھا جو ادارے نے خرید کر دے دیا۔
2 دسمبر کو کراچی سے کولمبو روانگی
رشینہ 2 دسمبر کو کراچی سے کولمبو روانہ ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا:آپ سب کولمبو آئیے، میرے گھر رہیے۔ میرے بچے، جو آدھے پاکستانی ہیں، آپ سب کو خوش آمدید کہیں گے۔
غیر ملکی شہریوں پر بھاری جرمانوں کا معاملہ،نظرِ ثانی کی اپیل
فیصل ایدھی اور ضیاء اعوان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے غیر ملکی شہریوں کے جرمانے معاف کیے جائیں جو مالی وسائل نہ ہونے کے باعث اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے۔
فیصل ایدھی نے کہاکہ جب لوگ واپس جانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے












ہفتہ 29 نومبر 2025 