آئی ایم ایم نے پاکستان کا کسٹمز اور ٹیرف سٹرکچر پیچیدہ اور غیر مؤثر قرار دے دیا،، موجودہ ٹیرف نظام سے چند مخصوص سیکٹرز اور بڑی کمپنیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق بلند اور پیچیدہ ٹیرف مقامی صنعت کو غیر ضروری تحفظ دیتے ہوئے برآمدات کو نقصان پہنچا رہے ہیں،، مالی سال 2025 میں پاکستان کے مجموعی ٹیرف خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہے ،، زیادہ ٹیرف کے باعث برآمدات میں کمی اور وسائل کے غلط استعمال جیسے منفی اثرات سامنے آئے۔آئی ایم ایف کے مطابق آٹو، زراعت اور فوڈ سیکٹر پر سب سے زیادہ درآمدی ٹیرف عائد ہے، جبکہ آٹو سیکٹر میں ٹیرف 150 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے آئی ایم ایف کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025 تا 2030 کے تحت بڑے پیمانے پر اصلاحات کی یقین دہانی کرا دی ہے،حکومت کے مطابق کسٹمز ڈیوٹیز بتدریج کم، اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کی جائیں گی،اور اوسط ٹیرف کو آئندہ برسوں میں تقریباً نصف تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان کا کسٹمزاورٹیرف سٹرکچرپیچیدہ اورغیرمؤثرقرار
پیر 15 دسمبر 2025












