اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان اور چین نے باہمی مفاد پر مبنی تذویراتی تعاون کے تحت نئے اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تذویراتی و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلوں اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے پیر کو چین۔پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کے وزیرِ خارجہ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن، وانگ یی کی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے 3 تا 5 جنوری 2026 چین کا دورہ کیا۔
4 جنوری 2026 کو بیجنگ میں وانگ یی اور محمد اسحاق ڈار نے چین۔پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈائیلاگ کے دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات اور وسیع شعبوں میں تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں سٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع و سلامتی، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلے شامل ہیں۔ باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقین نے سٹریٹجک روابط کے فروغ، سٹریٹجک باہمی اعتماد کو گہرا کرنے، مشترکہ مفادات کے تحفظ، دونوں ممالک کی اقتصادی و سماجی ترقی کے فروغ اور خطے سمیت دنیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے 2026 میں چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی یاد میں تقریبات کے آغاز کا اعلان کیا، جو چین۔
پاکستان دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے شعبوں کے فروغ کا ذریعہ بنیں گی تاکہ یہ دوستی نسل در نسل مستحکم ہوتی رہے۔ دونوں فریقین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ چین اور پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور ان کی دوستی فولاد کی طرح مضبوط ہے۔ چین۔پاکستان تعلقات کی مضبوط اور مستحکم ترقی علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے غیرمعمولی سٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی روابط کو دوطرفہ تعلقات کی نمایاں خصوصیت قرار دیا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے قائدین کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر عمل درآمد، دونوں حکومتوں کے دستخط شدہ ایکشن پلان (29۔2025) کے نفاذ اور چین۔پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر میں صفِ اوّل پر رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا اور 14ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیاب تکمیل اور آئندہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے پر چین کو مبارکباد دی۔ پاکستان نے چین کے عوام دوست ترقیاتی فلسفے کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ جدیدیت کی جانب چینی راستہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے خودمختار ترقی کے حصول کا ایک نیا اور عملی ماڈل فراہم کرتا ہے۔ چین نے پاکستان کی قیادت کو معاشی استحکام کے حصول اور قومی اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے پر مبارکباد دی، جو پاکستان کے قومی اقتصادی تبدیلی منصوبے (2029–2024) “اُڑان پاکستان” کے تحت عوام کو ترقی و خوشحالی کے ثمرات پہنچانے پر مرکوز ہے۔ دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق امور پر غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے ون چائنا پالیسی سے اپنے پختہ وابستگی کی توثیق کی اور اس امر کا اعادہ کیا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پاکستان چین کی قومی وحدت کے حصول کی ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور’’تائیوان کی آزادی‘‘، ’’دو چین‘‘ یا ’’ایک چین، ایک تائیوان‘‘کے کسی بھی تصور کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان نے سنکیانگ، زیزانگ (تبت)، ہانگ کانگ اور بحیرۂ جنوبی چین سے متعلق امور پر چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیااور پاکستان کی قومی حالات سے ہم آہنگ ترقی، معاشی خوشحالی، دہشت گردی کے خلاف مضبوط جدوجہد اور بین الاقوامی و علاقائی امور میں بڑے کردار کی حمایت کی۔
چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جامع اقدامات اور پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو سراہا، اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عظیم قربانیوںکا اعتراف کیا۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی و سلامتی کے شعبوں میں ہمہ جہت تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تاکہ چین۔پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون محفوظ اور ہموار انداز میں آگے بڑھے۔ طرفین نے دہشت گردی کے خلاف د ہرے معیار کی مخالفت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون مضبوط بنائے۔ فریقین نے ترقیاتی منصوبوں اور ترجیحات کو مزید ہم آہنگ کرنے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نمایاں منصوبے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اپ گریڈڈ ورژن 2.0 کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ صنعت، زراعت اور معدنیات کے تین کلیدی شعبوں پر توجہ، گوادر بندرگاہ کی تعمیر و فعالیت، قراقرم ہائی وے کی روانی اور پاکستان کی پائیدار ترقی کی صلاحیت میں اضافے پر اتفاق ہوا۔
تجارت و سرمایہ کاری، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور عوامی و ثقافتی تبادلوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ خنجراب پاس سے سال بھر مکمل رسائی کو دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ فریقین نے چین اور پاکستان کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔ فریقین نے مالی و بینکاری شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی مالیاتی فورمز پر باہمی حمایت بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنے مالی و مالیاتی شعبوں کے لیے چین کی معاونت کو سراہا۔ دونوں فریقین نے خلائی تعاون میں وسعت اور پاکستانی خلا بازوں کی جلد چینی خلائی سٹیشن میں شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا، اور پرامن و باہمی مفاد پر مبنی خلائی تحقیق کے ذریعے معاشی و سماجی ترقی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقین نے دوسری جنگِ عظیم میں فتح کے نتائج کے تحفظ، اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری ، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کی مخالفت اور فاشزم و عسکریت پسندی کی واپسی کے خلاف موقف کا اعادہ کیا۔ قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ اور بین الاقوامی قانون کے دیگر اصولوں پر مبنی بعد از جنگ عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر مبنی جنوبی ایشیا کے علاقائی نظام کی اہمیت پر زور دیا، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور خطے میں امن و استحکام کے تحفظ اور تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات و مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی فریق نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر چین کو بریفنگ دی۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخ کا ورثہ ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، اقوامِ متحدہ کے منشور اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
دونوں فریقین نے مساوات اور باہمی مفاد کے اصول کے تحت سرحد پار آبی وسائل کے تعاون پر آمادگی ظاہر کی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کی اہمیت پر زور دیا، نیز علاقائی و عالمی سلامتی و استحکام کی اہمیت کو دہرایا۔ دونوں فریقین نے چین۔افغانستان۔پاکستان سہ فریقی وزرائے خارجہ ڈائیلاگ اور چین۔بنگلہ دیش۔پاکستان تعاون کے فریم ورک سے مزید نتائج حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں فریقین نے عالمی ترقی، عالمی سلامتی، عالمی تہذیب اور عالمی حکمرانی کے اقدامات کے تحت تعاون بڑھانے، عالمی حکمرانی کے نظام کو زیادہ منصفانہ و مساوی بنانے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے پائیدار ترقی کے حق کے تحفظ کے لیے چین کی کوششوں کو سراہا۔ اقوامِ متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمیت کثیرالجہتی فورمز میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں جانب نے کثیرالجہتی، آزاد تجارت، اور بالادستی، دھونس، ’’چھوٹے گروہوں‘‘ اور بلاک سیاست کی مخالفت کا اعادہ کیا۔
چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی صدارت کی کارکردگی کو سراہا اور 2027۔2026 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی روٹیشنل صدارت پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے افغانستان سے متعلق قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے، افغان حکومت کو جامع سیاسی ڈھانچہ، معتدل پالیسیاں، ترقی پر توجہ اور ہمسائیگی کے اصول اپنانے کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا، اور افغانستان کے استحکام و عالمی برادری میں انضمام میں تعمیری کردار کی حمایت کی۔ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے غزہ میں غیرمشروط، جامع اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کوششوں پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ دونوں فریقین نے فولادی دوستی کو مزید فروغ دینے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو گہرا کرنے اور ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے تحت نئے اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ پاکستان سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ، وانگ یی اور چینی حکومت کا پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے آئندہ سال اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے اگلے دور کے انعقاد پر اتفاق کیا، جس کی تاریخیں باہمی مشاورت سے طے کی جائیں گی۔












پیر 5 جنوری 2026 