اسلام آباد(طارق سمیر) 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 136 زیر تربیت افسران کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد کی جانب سے سماجی تحفظ میں تاریخی اصلاحات، کیش لیس ادائیگیوں اور فلیگ شپ پروگرامز پر بریفنگ سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام (CTP) سے تعلق رکھنے والے 136 زیر تربیت افسران کے وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا تاکہ ادارے کے وژن، مینڈیٹ اور سماجی تحفظ کے نمایاں پروگرامز سے تفصیلی آگاہی حاصل کی جا سکے۔سیکریٹری بی آئی ایس پی، عامر علی احمد نے وفد کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کروڑ سے زائد خواتین مستحقین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹس فعال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 56 لاکھ 70 ہزار مفت سمز ملک بھر میں تقسیم کی جا چکی ہیں، جو شفاف، محفوظ اور آسان ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی سب سے بڑی مہم ہے۔ سیکریٹری بی آئی ایس پی نے بی آئی ایس پی کے بنیادی پروگرامز پر جامع بریفنگ دی، جن میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونما اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر) شامل ہیں، جسے انہوں نے بی آئی ایس پی کا کلیدی پروگرام اور باعثِ فخر اثاثہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر کفالت پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بینظیر تعلیمی وظائف کے تحت ایک کروڑ 24 لاکھ بچوں کا اندراج مکمل ہو چکا ہے تاکہ تعلیم کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے باعث بچوں میں قد کی کمی (اسٹنٹنگ) میں 6.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کی تصدیق آغا خان یونیورسٹی کی رپورٹ سے ہوتی ہے۔ این ایس ای آر اس وقت 3 کروڑ 87 لاکھ گھرانوں کا احاطہ کرتا ہے، جو نادرا کے بعد ملک کا سب سے بڑا سماجی و معاشی ڈیٹا بیس ہے۔ سیکریٹری بی آئی ایس پی نے بینظیر ہنرمند پروگرام (BHP) کے آغاز پر بھی روشنی ڈالی، جس کا مقصد مستحقین اور ان کے اہلِ خانہ کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت اب تک 600 سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نوجوان لڑکیوں کے لیے غذائی پروگرام، دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رجسٹریشن کے لیے موبائل رجسٹریشن گاڑیوں کے استعمال، اور خواتین مستحقین کے لیے ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی پروگرام سے بھی آگاہ کیا۔دورے کے دوران ایک تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں پروبیشنری افسران نے بی آئی ایس پی کی کارکردگی، اصلاحات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق سوالات کیے اور اپنی آراء پیش کیں۔ دورے کے اختتام پر سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر (CTP/کیپیسٹی بلڈنگ) ڈاکٹر سید شبیر اکبر زیدی نے سیکریٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد کو یادگاری شیلڈ پیش کی، جبکہ محترمہ مریم صابر حسین نے اظہارِ تشکر اور شکریہ ادا کیا۔
بی آئی ایس پی ، 1کروڑ سے زائد مستحقین کی مالی معاونت کی جا رہی ہے، عامر علی احمد
بدھ 7 جنوری 2026












