لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ائمہ مساجد کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے اعزازیہ کا اعلان، امن و قانون کے قیام میں علماء کے کردار پر زور

Calender Icon جمعرات 8 جنوری 2026

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ائمہ مساجد معاشرے کے ستون اور دینی و اخلاقی رہنمائی کا سب سے مضبوط ذریعہ ہیں، تاہم بدقسمتی سے انہیں وہ معاشی مقام اور احترام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب بھر کے تقریباً 70 ہزار ائمہ مساجد کو ماہانہ 25 ہزار روپے اعزازیہ دیا جائے گا، جو فروری 2026 سے باقاعدہ طور پر بینک آف پنجاب کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

لاہور میں ائمہ و علمائے کرام میں اعزازیہ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ان ائمہ کا نہیں بلکہ ان کے لیے خدمت کرنے کا انہیں اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، پولیس، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، محکمہ اوقاف، ضلعی انتظامیہ اور بینک آف پنجاب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے کو ممکن بنایا۔

مریم نواز نے کہا کہ جب اس منصوبے کا آغاز ہوا تو بعض حلقوں نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، مگر جب ائمہ مساجد کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوا اور ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ یہ اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آج بھی کئی مساجد کے ائمہ صرف 5 سے 10 ہزار روپے ماہانہ پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو کہ ان کی عظیم ذمہ داریوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں 15 ہزار روپے اعزازیہ تجویز کیا گیا تھا، تاہم قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے مشورے پر اس رقم کو بڑھا کر 25 ہزار روپے کر دیا گیا۔ اس منصوبے پر سالانہ تقریباً 20 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ تمام رجسٹرڈ ائمہ کے بینک اکاؤنٹس کھول دیے گئے ہیں اور “وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے ائمہ مساجد” کے ذریعے شفاف ادائیگی کی جائے گی۔ عبوری طور پر پے آرڈر کے ذریعے رقم دی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ اعزازیہ محلہ کمیٹیوں یا مسجد انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی معاونت کا متبادل نہیں بلکہ اضافی مدد ہے، لہٰذا مقامی سطح پر تعاون کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

اپنے خطاب میں مریم نواز نے امن و امان، قانون کی بالادستی اور فتنہ و فساد کے خلاف علماء کے کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دین کے نام پر تشدد، املاک کو نقصان پہنچانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور بے گناہوں کا قتل کھلا فساد ہے، جس کی قرآن و سنت میں شدید مذمت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، اور ان پر حملے پوری ریاست پر حملے کے مترادف ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کے فتنہ، مافیا یا قانون شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ریاست پوری قوت سے امن قائم رکھے گی۔

مریم نواز نے ٹریفک قوانین پر سختی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہیلمٹ، چالان اور دیگر قوانین کا مقصد عوام کی جانوں کا تحفظ ہے، نہ کہ حکومت کا فائدہ۔ انہوں نے علماء پر زور دیا کہ وہ اپنے خطبات کے ذریعے قانون کی پاسداری، نشہ سے اجتناب، والدین کے احترام، حلال و حرام کی تمیز اور معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور اجاگر کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور علماء کے درمیان مضبوط رابطہ وقت کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک مثبت پیغام پہنچایا جا سکے اور ایک پرامن، مہذب اور مثالی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، ائمہ مساجد کے گھروں میں برکت دے اور ملک کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔