اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر نے نئی تاریخی بلندی کو چھو لیا ہے۔ ریکارڈ ترسیلاتِ زر کو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اوورسیز پاکستانیوں کے بھرپور اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ترسیلاتِ زر کے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر 3.6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ ان کے مطابق یہ رقم دسمبر 2024 کے 3.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ ہے۔
خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ دسمبر 2025 میں ترسیلاتِ زر نومبر 2025 کے 3.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں بھی 13 فیصد زیادہ رہیں، جو مسلسل اضافے کے رجحان کی واضح علامت ہے۔
مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی ترسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مجموعی ترسیلاتِ زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جہاں سے 813 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 726 ملین ڈالر، برطانیہ سے 560 ملین ڈالر اور امریکا سے 302 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملکی معیشت میں مضبوط شمولیت طویل المدتی استحکام، پائیدار ترقی اور پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی مضبوط ضمانت ہے۔












اتوار 11 جنوری 2026 