انسٹاگرام صارفین کا ڈیٹا لیک، 17.5 ملین اکاؤنٹس متاثر

Calender Icon اتوار 11 جنوری 2026

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام کے صارفین کی ذاتی معلومات لیک ہونے اور 17.5 ملین صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی میلویئربائٹس کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں یوزرنیم، ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، رہائشی پتے اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسٹاگرام صارفین کی ذاتی معلومات لیکن ہونے کا سراغ معمول کے مطابق ڈارک ویب مانیٹرنگ کے دوران لگایا گیا اور صارفین کو خاص طور پر انسٹاگرام کے پاس ورڈ ری سیٹ کے عمل کے ذریعے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے خبردار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے کئی انسٹاگرام صارفین نے غیر متوقع طور پر پاس ورڈ ری سیٹ ہونے اور ای میلز موصول ہونے کی شکایت کی تھی، جس سے ممکنہ ڈیٹا لیک کے خدشات پیدا ہوئے۔

سائبرسیکیورٹی کمپنی نے اس سرگرمی کو دنیا بھر میں 17.5 ملین اکاؤنٹس کا ڈیٹا لیک ہونا قرار دیا اور کہا کہ سائبر حملہ آوروں نے 17.5 ملین انسٹاگرام اکاؤنٹس کی حساس معلومات چوری کی ہیں، جن میں یوزرنیم، رہائشی پتے، فون نمبرز، ای میل ایڈریسز اور دیگر معلومات شامل ہیں۔

مزید بتایا کہ یہ ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہے اور سائبر حملہ آوروں کی جانب سے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب میٹا نے کسی بھی انسٹاگرام ڈیٹا لیک کی تردید کی اور یقین دہانی کرائی کہ صارفین کے اکاؤنٹس محفوظ ہیں۔

میٹا نے انسٹاگرام کے بڑے ڈیٹا لیک کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ مسئلہ ایک بیرونی فریق کی جانب سے پاس ورڈ ری سیٹ کی درخواستیں بھیجنے سے متعلق تھا جو انسٹاگرام کے سسٹمز تک غیرمجاز رسائی کا معاملہ نہیں ہے۔

میٹا نے تصدیق کی کہ کسی بھی اکاؤنٹ کو نقصان نہیں پہنچا۔