اسلام آباد ( ملک نجیب ) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) میں انتظامی اختیارات کے غیر معمولی ارتکاز نے ایک بار پھر سوالات اور عوامی خدشات کو جنم دے دیا ہے ۔ ڈیپوٹیشن پر تعینات پاس گروپ سے تعلق رکھنے والی گریڈ 18 کی خاتون افسر ڈاکٹر انعم فاطمہ بیک وقت چار اہم اور بااثر عہدوں کی ذمہ دار ہیں جن میں چیف میٹروپولیٹن کارپوریشن آفیسر (MCI) — گریڈ 19 کا عہدہ، 27 اگست 2025 سے سنبھالا گیا ، ڈائریکٹر، میونسپل ایڈمنسٹریشن (DMA) سی ڈی اے کی میونسپل انتظامیہ کے امور ، انفورسمنٹ چیف تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی علاوہ ازیں اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کا اضافی چارج بھی وہ عارضی بنیاد پر 14 جنوری 2026 سے سنبھال رہی ہیں ۔ اہم پہلو یہ ہے کہ چیف MCI آفیسر گریڈ 19 کا عہدہ ہے جبکہ ڈاکٹر انعم فاطمہ گریڈ 18 کی افسر ہیں ۔ گریڈ 18 کی افسر کو گریڈ 19 کے عہدے پر مقرر کرنا وفاقی خدمات کے اصولوں اور قواعد کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سی ڈی اے رولز (CDA Service Regulations, 1992) اور اسٹیبلشمنٹ کوڈ (ESTA Code) واضح کرتے ہیں کہ ایک افسر کو صرف عارضی اور محدود مدت (3 ماہ تک) کے لئے اضافی چارج دیا جا سکتا ہے ۔ چار بڑے ، مستقل اور فعال اداروں کا چارج ایک ہی افسر کو بیک وقت دینا قواعد کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتظام نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ شہری سہولیات اور بنیادی خدمات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ۔ ایم سی آئی کے عہدے پر تقریباً 5 ماہ سے خدمات انجام دی جا رہی ہیں جبکہ DMA اور انفورسمنٹ کی ذمہ داریاں کم از کم ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں ۔ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کا اضافی چارج چند روز قبل ان کے
سپرد کیا گیا جبکہ اس عہدے پر تعینات مستقل افسر کو عہدے سے ہٹا کر انہیں اضافی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سی ڈی اے کے مستقل بنیادوں پر متعدد افسران کو عہدے نہیں سونپے گئے اور گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں ایچ آر ڈی رپورٹ کیا گیا یا پھر او ایس ڈی کر دیا گیا جو انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور اپنے منظور نظر چند افسران کو نوازنے کی مبینہ حکمت عملی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن اداروں کی ذمہ داریاں ڈاکٹر انعم فاطمہ کو سونپی گئی ہیں ان تمام اداروں کا براہ راست تعلق تاجر برادری سے ہے اور تاجروں کا کہنا ہے کہ شہر میں تاجروں کو نشانہ بنانے کے لئے تمام اداروں کی سربراہی ایک ہی افسر کو سونپ کر انتظامیہ نے تاجروں کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے اور تاجروں کو بلاوجہ انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تاجر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان عہدوں پر مستقل افسر تعینات کئے جائیں یا پھر اضافی چارجز قواعد کے مطابق دینے جائیں ، اختیارات کا ارتکاز ایک افسر کے ہاتھ میں ختم کیا جائے اور اداروں کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاہم سی ڈی اے ترجمان سے اس متعلق موقف لیا گیا تو ان کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ اداروں کے بجائے افراد پر انحصار کیا جا رہا ہے ۔ یہ واقعہ نہ صرف سی ڈی اے کے انتظامی نظام میں کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ وفاقی قواعد و ضوابط کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالتا ہے ۔ عوامی مفاد اور ادارہ جاتی کارکردگی کے لئے ضروری ہے کہ اختیارات کا ارتکاز ختم کیا جائے اور ادارے مضبوط بنائے جائیں نہ کہ چند افراد کو طاقتور بنایا جائے ۔












پیر 19 جنوری 2026 