اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل صبح 11 بجے منعقد ہوگا، جس میں اہم قانون سازی کا ایجنڈا شامل ہے۔ اجلاس صدرِ مملکت کی جانب سے طلب کیا گیا تھا، جبکہ وزارتِ قانون اور وزارتِ پارلیمانی امور نے اس حوالے سے تمام انتظامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مشترکہ اجلاس میں مجموعی طور پر 29 بل منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ ان میں 18 نجی اور 11 حکومتی بل شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 24 بل ایسے ہیں جو صدرِ مملکت کی منظوری کے بغیر واپس کیے گئے تھے اور اب انہیں آئینی تقاضوں کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
ایجنڈے میں شامل اہم بلوں میں جرنلسٹس پروٹیکشن بل اور ڈومیسٹک وائلنس بل بھی شامل ہیں، جنہیں حساس اور اہم نوعیت کی قانون سازی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری اور نجی جامعات سے متعلق بل بھی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں ترمیم کا بل بھی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کمیشن کے اختیارات اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر قومی و انتظامی نوعیت کے متعدد مسوداتِ قانون پر بھی غور کیا جائے گا۔
کومر پورا رکھنے اور اجلاس کی کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل کو خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ حکومتی اور اتحادی ارکان کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ مشترکہ اجلاس موجودہ پارلیمانی مدت کے اہم ترین اجلاسوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں قانون سازی کے ذریعے متعدد زیر التوا معاملات نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔












جمعرات 22 جنوری 2026 