بلوچستان، وبائی بیماری، سیکڑوں مویشی ہلاک، سینیٹر عبدالقادرکا ویکسینیشن کا مطالبہ

Calender Icon منگل 27 جنوری 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مویشیوں میں پھیلنے والی خطرناک بیماریوں نے ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، مستونگ، خضدار، ژوب، لورالائی، چاغی اور کیچ سمیت کئی علاقوں میں گائے، بھیڑ، بکریاں اور اونٹ تیزی سے ہلاک ہو رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں جانور معذور ہو کر دودھ دینے، چرنے یا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ دیہی بلوچستان میں جہاں غربت پہلے ہی ایک تلخ حقیقت ہے، مویشیوں کی بیماری نے لوگوں کے واحد ذریعۂ معاش کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔بلوچستان کی معیشت کا بڑا حصہ لائیو اسٹاک پر منحصر ہے۔ صوبے کے لاکھوں غریب خاندانوں کے لیے جانور صرف آمدنی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ خوراک، علاج اور بچوں کی تعلیم کا سہارا بھی ہیں۔ جب ایک غریب کسان یا چرواہے کے جانور مر جاتے ہیں یا بیماری کے باعث ناکارہ ہو جاتے ہیں تو اس کے لیے متبادل روزگار کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں ہوتا۔چیرمین قایمہ کمیٹی براۓ دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ منہ کھر، لمپی اسکن، طاعون نما امراض اور دیگر متعدی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، مگر ویکسین کی قلت، ویٹرنری عملے کی کمی اور بروقت تشخیص کا فقدان صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ دور دراز علاقوں میں سرکاری ویٹرنری مراکز یا تو غیر فعال ہیں یا بنیادی سہولیات سے محروم، جس کے باعث غریب لوگ مہنگے نجی علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ صورت حال پر قابو پانے کیلیے حکومت ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن مہم شروع کرے، موبائل ویٹرنری یونٹس کو فعال بنائے، ادویات کی فراہمی یقینی بنائے اور متاثرین کے لیے مالی امداد اور معاوضوں کی اداییگی کو یقینی بناۓ۔ حکومت جانوروں کے علاج کے لیے مربوط نظام وضع کرے۔ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مویشیوں کی ہلاکت غریب عوام کے لیے معاشی المیے میں بدل جائے گی۔