اسلام آباد(طارق محمود سمیر)بھارت میں نیپاہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایشیائی ممالک نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کر دی ہے، جبکہ متعدد بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے بھارت کو ایک بار پھر عالمی صحت کے خدشات کا مرکز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نیپاہ وائرس نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق نیپاہ وائرس میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے انتہائی مہلک وائرسوں میں شامل کرتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تھائی لینڈ نے بھارت سے آنے والے مسافروں کے لیے خصوصی اسکریننگ چیک پوائنٹس قائم کر دیے ہیں، جبکہ تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نیپاہ وائرس کو کیٹیگری 5 کا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھی بھارت میں بگڑتی ہوئی صحتِ عامہ کی صورتحال کو عالمی سطح پر خطرہ قرار دے چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نیپاہ وائرس کو ترجیحی خطرناک وائرسوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے فوری اور جامع تحقیق پر زور دیا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانیہ، نیپال، تھائی لینڈ، تائیوان اور سری لنکا نے بھارتی مسافروں کے لیے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے۔
برطانوی جریدے دی انڈیپینڈنٹ نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ چین، میانمار، انڈونیشیا اور ویتنام نے بھارت کے سفر کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں نیپاہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر مؤثر، غیر مربوط اور بالخصوص دیہی و سرحدی علاقوں میں تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس کی صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مودی حکومت کی ترجیحات میں سیاسی تشہیر تو شامل ہے، مگر عوامی صحت کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔
بھارتی حکومت کی نااہلی، مہلک نیپاہ وائرس خطے میں پھیلنے کا خدشہ
جمعرات 29 جنوری 2026












