لاہور(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حلقے کی بہتری کے لیے ترقیاتی کاموں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور مسلم لیگ (ن) کا منشور ہی تعمیر و ترقی ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بلوچستان کی صورتحال سے مکمل طور پر باخبر رہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی گئی اور جنگ میں شکست کے بعد بھارت کو شدید تکلیف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کے ادارے پراکسیز کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے پی کے ترجمان ٹی وی پر بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں، انہیں پنجاب سے سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو بڑے بڑے منصوبے شروع کیے گئے اور اب وزیراعلیٰ مریم نواز بھی پنجاب میں نمایاں کام کر رہی ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عوام خیبر پختونخوا حکومت کو اربوں روپے دیتی ہے مگر وہاں صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اب تک کوئی قابلِ ذکر منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔ ان کے مطابق سیلاب کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب خود متاثرین کی مدد کے لیے میدان میں نکلیں جبکہ کے پی حکومت بحران کے وقت غائب ہو جاتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ تیراہ کے لیے دیے گئے چار ارب روپے کہاں گئے اور کہا کہ باڑہ کے سیاسی اتحاد نے بھی بدانتظامی اور بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب تیراہ کے عوام پر فتنہ الخوارج حملہ آور ہوتا ہے تو پاک فوج ہی ان کا مقابلہ کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جماعت کا کام صرف احتجاج کرنا اور اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنا رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج ایک آئینی آپشن ہے جو ہر حکومت کو حاصل ہوتا ہے تاہم کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کی نوبت نہ آئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گورنر راج تب لگتا ہے جب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کا معمولی علاج کیا گیا جس کے بعد انہیں اڈیالہ منتقل کیا گیا اور یہ علاج ان کی رضامندی سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور عوامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی، ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔












اتوار 1 فروری 2026 