تہران:(ویب ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو یہ تنازع ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر لے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں، جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کا ذکر کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی امریکا بارہا یہ کہتا رہا ہے کہ تمام آپشنز میز پر ہیں۔ جن میں جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ ایران جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں۔ تاہم کسی بھی حملے یا ہراسانی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا کہ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگر اس بار جنگ شروع کی گئی۔ تو وہ محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس تیل، گیس، قیمتی معدنی ذخائر اور ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک محل وقوع جیسے قیمتی اثاثے موجود ہیں۔ جو لالچی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ امریکا نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے وسائل، سیاست، سلامتی اور خارجہ امور پر کنٹرول رکھا۔ لیکن اب اس کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ اور وہ پہلوی دور کی بالادستی واپس لانا چاہتے ہیں۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ اصل تنازع ایران کی آزادی اور عالمی طاقتوں کے سامنے مزاحمت ہے۔ جبکہ انسانی حقوق اور دیگر دعوے محض بہانے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران آئندہ بھی ثابت قدم رہے گا اور اللہ کے فضل سے دشمنوں کی سازشیں ناکام بنائے گا۔
انہوں نے ایران میں حالیہ بدامنی کو بیرونی حمایت یافتہ سازش قرار دیا۔ جس کی جڑیں امریکا اور اسرائیل سے ملتی ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات کے منتظمین کو بیرون ملک سے تربیت اور مالی معاونت فراہم کی گئی۔ جبکہ بعض نوجوان گمراہی کا شکار ہوئے۔












اتوار 1 فروری 2026 