پاکستان بمقابلہ نیدرلینڈز میچ بھی بارش کی نذر ہونے کا امکان

Calender Icon بدھ 4 فروری 2026

کولمبو(نیوزڈیسک) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کے لیے اصل خطرہ بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر پوائنٹس کھونے کا نہیں بلکہ کولمبو کا غیر یقینی موسم ہے۔

پاکستان کو گروپ مرحلے میں چار میچ کھیلنے ہیں، جن میں سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ پاکستان اپنے گروپ مرحلے کے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جہاں بارش کی پیش گوئیاں ٹیم کے ورلڈ کپ میں سفر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب پاکستان پہلے ہی ایک میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ باقی تین میچز میں سے دو ایسے ہیں جن پر بارش کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

اگر ان میں سے ایک میچ بھی بارش کی نذر ہو گیا تو پوائنٹس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی بری طرح متاثر ہو سکتا ہے، جو اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔ کولمبو کا موسم ماضی میں بھی غیر متوقع رہا ہے اور یہی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

اگر کسی ایک اہم میچ میں کھیل مکمل نہ ہو سکا تو پاکستان نہ صرف پوائنٹس ٹیبل میں پیچھے رہ سکتا ہے بلکہ نیٹ رن ریٹ میں بھی دیگر ٹیموں کے مقابلے کمزور پوزیشن میں چلا جائے گا۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والے ادارے ’ایکیو ویدر‘ کے مطابق پاکستان کا پہلا میچ سات فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف ہے، جس میں بارش کا امکان تقریباً 64 فیصد بتایا جا رہا ہے۔

امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ بارش زیادہ تر میچ کے دوسرے حصے میں ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کھیل متاثر ہونے یا مکمل طور پر منسوخ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

پاکستان کا آخری گروپ میچ نمیبیا کے خلاف 18 فروری کو کھیلا جانا ہے، جس میں بارش کا امکان 25 فیصد بتایا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میچ کے مکمل ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور معمولی رکاوٹ کے سوا بڑے مسئلے کا خدشہ کم ہے۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کوئی ٹیم میچ کھیلنے سے انکار کرے تو اسے فورفیٹ تصور کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں متعلقہ ٹیم کو دو پوائنٹس کا نقصان ہوتا ہے اور نیٹ رن ریٹ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

بائیکاٹ اور بارش کے خدشات کو سامنے رکھا جائے توپاکستان کے لیے سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانا مشکل ہوسکتا ہے، اور کولمبو کا موسم اس مہم میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔