افغان طالبان کا نیا ضابطہ، جبر و خوف پر مبنی نظام ہے، یوریشیا

Calender Icon پیر 9 فروری 2026

کابل: (ویب ڈیسک)افغان طالبان نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے نیا فوجداری ضابطہ متعارف کرا دیا ہے جسے ناقدین نے جبر اور خوف پر مبنی حکمرانی کو قانونی شکل دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ضابطے کے ذریعے ریاستی طاقت کو مزید سخت کرتے ہوئے اختلافِ رائے کو محدود کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان کی جانب سے نافذ کیا گیا یہ نیا قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی صورتحال پہلے ہی تشویش کا باعث ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غیر منتخب نظام کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

بین الاقوامی جریدے یوریشیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم کا نیا فوجداری ضابطہ نظریاتی اطاعت کو مسلط کرنے اور جبر پر مبنی ریاستی حکمت عملی کو منظم کرنے کا ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ضابطے کے تحت طبقاتی بنیادوں پر انصاف کے تصور کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔

یوریشیا کے مطابق طالبان کے ضابطے میں مذہبی اور سیاسی تنوع کو بھی محدود کیا گیا ہے، جبکہ اختلافی سوچ رکھنے والے طبقات کے لیے قانونی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کی خودمختاری پر مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور بعض معاملات میں گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ کمزور کیا گیا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ خوف اور دباؤ کے ذریعے اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے، جو عام شہریوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قانون انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور مذہبی و سماجی ہم آہنگی کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور اس سے معاشرے میں عدم مساوات اور طبقاتی ناانصافی کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔