لاہور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو نیک نیتی سے سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن کئی معاملات میں معاہدوں پر عمل نہ ہونے سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ PPP نے وزارتیں لئے بغیر حکومت کی مدد کی تھی، مگر اب ایسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو مناسب نہیں۔
کائرہ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے بحرانوں کا شکار ہے، اور جو مکالمہ اب شروع ہوا ہے اس سے نہ سیاست کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی جمہوریت کو۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے حکومت کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں پر عمل نہیں ہوا، حالانکہ PPP نے بار بار کوشش کی کہ لکھے گئے معاہدے پر عملدرآمد ہو۔ “کچھ نکات پر عمل ہوا اور کچھ پر نہیں، اس کے باوجود ہم نے حکومت کو سپورٹ کیا۔ آج بھی ہماری کوشش ہے کہ ماضی کے زخم بھلائے جائیں” ۔
پریس کانفرنس میں کائرہ نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر تنقید کی اور کہا کہ “کچھ ایسے سوال اٹھائے گئے جن کا جواب ضروری ہے، لیکن (ن) لیگ کو جمہوری طریقے سے تنقید کرنی چاہیے، ماضی والا لہجہ استعمال نہ کرے۔” انہوں نے حالیہ سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا خوفناک تھا اور بہت تباہی ہوئی۔ “جہاں اچھا کام ہوا وہاں ہم تعریف کریں گے اور جہاں کوئی اچھا کام نہ ہو تو تنقید بھی کریں گے، کیونکہ غلط کام پر تنقید کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔”
کائرہ نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پر بھی براہ راست تنقید کی اور کہا کہ “اگر ہم رائے دیتے ہیں تو اس پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ کہا گیا کہ جو انگلی اٹھے گی اسے توڑ دیں گے۔ آپ کی زبان، آپ کے الفاظ اور لہجہ بالکل مناسب نہیں۔ آپ صرف چیف منسٹر پنجاب نہیں، بلکہ نواز شریف کی بیٹی اور شہباز شریف کی بھتیجی بھی ہیں۔ آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، اپنے لہجے پر غور کریں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “آپ کے منہ سے نکلے الفاظ (ن) لیگ کا موقف ہیں۔ سیلاب متاثرین کو لاکھوں روپے دینے ہیں تو آپ دیں۔”
بی آئی ایس پی پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کائرہ نے کہا کہ یہ صرف PPP کا پروگرام نہیں بلکہ دنیا بھر میں غربت روک تھام کے لیے نمبر ون پروگرام ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “بلاول بھٹو بڑے تحمل سے چیزیں آگے لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران انتظامیہ کا رویہ مناسب نہ تھا، مگر بلاول نے اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کا نام لے کر ان کے کام کی تعریف کی۔” انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی واحد ایسا پروگرام ہے جس پر آئی ایم ایف نے 200 ارب روپے کا اضافہ کروایا۔
آخر میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ “حکمرانوں کا کام تحمل سے بات کرنا ہوتا ہے۔ آپ حکومت چلائیں لیکن دوسروں کے حقوق کو ختم نہ کریں۔” پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے زور دیا کہ PPP اب بھی مل کر کام کرنے کو تیار ہے، مگر جمہوریت کے اصولوں کا احترام ضروری ہے۔












بدھ 1 اکتوبر 2025 