سندھ طاس کیس: ثالثی عدالت میں سماعت، بھارت کی عدم پیشی

Calender Icon منگل 10 فروری 2026

دی ہیگ:(ویب ڈیسک) سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے بھارت کے خلاف کیس میں مودی سرکار کا کوئی نمائندہ پیش نہ ہوا۔پرمیننٹ کورٹ آف آربٹریش (پی سی اے) کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی وہ پیش ہوا۔

بھارت 9 فروری کی ڈیڈلائن تک ڈیموں کا تکنیکی ڈیٹا دینے میں ناکام رہا۔ثالثی کیس میں پی سی اے نے دوسرے مرحلے میں میرٹس پر سماعت مکمل کرلی ہے۔یہ ثالثی کارروائی سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل IX اور ضمیمہ جی کے تحت پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔

ان کارروائیوں میں پاکستان نے ثالثی عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ انڈس واٹرز معاہدے کی تشریح اور اطلاق کو ان مخصوص ڈیزائن عناصر کے تناظر میں واضح کرے، جو رن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں سے متعلق ہیں۔

عدالت کے 21 نومبر 2025 کے حکمنامہ کے مطابق اس مرحلے میں عدالت یہ طے کر رہی ہے کہ بھارت ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع بوجھ کا تعین کس بنیاد پر کرے گا اور اس تعین کے بعد ان عناصر کو زیادہ سے زیادہ ذخیرہ آب (پونڈیج) کے حساب میں کس طرح شامل کیا جائے گا۔

دو روزہ سماعت کے دوران پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور عثمان اعوان نے کی۔ ان کے ساتھ پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید محمد مہر علی شاہ، نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر سید حیدر شاہ، پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن جمال ناصر بھی شریک تھے۔ قانونی ماہرین میں سر ڈینیئل بیتھلم کے سی، پروفیسر فلیپا ویب، ڈاکٹر کیمرون مائلز، محترمہ شارلٹ ویسٹ بروک اور عبداللہ طارق شامل تھے، جبکہ پیٹر جے رے اور ڈاکٹر گریگوری ایل مورس تکنیکی مشیر اور وکلا کے طور پر موجود تھے۔

ثالثی عدالت کی سربراہی امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مر فی کر رہے ہیں۔ دیگر ارکان میں بیلجیئم کے پروفیسر ووٹر بویٹارٹ، امریکا کے پروفیسر جیفری پی مِنیئر، اردن کے جج عون شوکت الخصاونہ اور آسٹریلیا کے ڈاکٹر ڈونلڈ بلیک مور شامل ہیں۔