اسلام آباد(طارق سمیر)ترکیہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی سیکریٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی جس کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور اطلاقی تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیناتھاپاکستان اور ترکیہ کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون” کے ایجنڈے کے تحت منعقدہ اس اجلاس میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے بین الاقوامی تعاون کو قابلِ پیمائش سائنسی، صنعتی اور سماجی و معاشی نتائج میں ڈھالنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے عالمی سائنسی و تکنیکی منظرنامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی حیثیت مستحکم ہوئی ہے۔ترک وفد کی قیادت ڈپٹی وزیر برائے صنعت و ٹیکنالوجی جناب محمد قاسم گونولّو کر رہے تھے، جبکہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عزت مآب عرفان نظیروغلو بھی وفد میں شامل تھے۔دونوں جانب سے موجودہ فریم ورک کے تحت تعاون کو تیز تر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جن میں شامل حلال سرٹیفکیش ، پاکستان ہلال اتھارٹی اور ہاک کے مابین تعاون پاکستان کی عالمی حلال تجارت میں مسابقت کو مضبوط بنا رہا ہے، قانونی و سائنسی میٹرولوجی ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور ترکیہ کے درمیان شراکت داری پاکستان کے قومی معیار اور پیمائش کے نظام کو مستحکم کر رہی ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور ترک ادارہ برائے معیارات کے مابین تعاون ہم آہنگ معیارات کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی میں معاون ہے۔ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (PSF) اور ٹوبیٹاک (TÜBİTAK) کی شراکت جدید سائنسی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی معاونت سے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (PSF) اور ٹوبیٹاک (TÜBİTAK) کے درمیان تعاون کو کامیاب بین الاقوامی تحقیقی شراکت کی مثالی مثال قرار دیا گیا۔ 2013 میں مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کے بعد اب تک چار مشترکہ کالز جاری کی جا چکی ہیں، جن کے تحت 270 مشترکہ تحقیقی تجاویز موصول ہوئیں۔اب تک توانائی، بایوٹیکنالوجی، بایومیڈیکل ٹیکنالوجیز، جدید مواد، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز (IOT)، الیکٹرک گاڑیاں، فوڈ ٹیکنالوجیز اور اوشیانوگرافی سمیت ترجیحی شعبوں میں 33 اعلیٰ معیار کے مشترکہ منصوبوں کو فنڈ فراہم کیا جا چکا ہے۔یہ منصوبے پاکستان کی تحقیقی صلاحیت کو مضبوط بنا رہے ہیں، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں، جدت کو فروغ دے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان علم کی منتقلی کو ممکن بنا رہے ہیں۔وفاقی سیکریٹری شاہد اقبال بلوچ نے اس موقع پر زور دیا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی منظم انداز میں بین الاقوامی سائنسی شراکت داریوں کو فروغ دے رہی ہے جو عملی نتائج فراہم کرتی ہیں، قومی ترقی کی ترجیحات کی حمایت کرتی ہیں اور پاکستانی محققین و اداروں کو عالمی جدت کے ممتاز ماحولی نظاموں سے جوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کا مربوط اور منظم طریقۂ کار پاکستان کو بین الاقوامی سائنسی تعاون میں ایک قابلِ اعتماد اور نتائج پر مبنی شراکت دار کے طور پر نمایاں کر رہا ہے۔ترک وفد نے وزارت کی ادارہ جاتی مضبوطی، تسلسل اور نتائج پر مرکوز تعاون کے ماڈل کو سراہتے ہوئے ابھرتی اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اعتماد کا اظہار کیا۔دونوں ممالک نے تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے، نئی مشترکہ کاوشوں کے آغاز اور جدید تحقیق، جدتی ماحولی نظام، ٹیکنالوجی کی تجارتی کاری اور سائنس پر مبنی کاروباری سرگرمیوں میں شراکت کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس سے پاکستان ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔
پاکستان،ترکیہ سائنسی تعاون کے ٹھوس نتائج، مزید توسیع کا عندیہ
بدھ 11 فروری 2026












