اسلام آباد (شکیل قرار)نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 77 کنٹریکٹ افسران کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کی جانب سے دی گئی تین ماہ کی آخری توسیع بھی ختم ہو چکی ہے، جبکہ ادارہ تاحال کنٹریکٹ افسران کی ریگولرائزیشن کے لیے قواعد و ضوابط تشکیل نہیں دے سکا۔
نوکری سے فارغ ہونے والوں میں ٹیکنیکل، فرانزک اور انویسٹیگیشن ونگ کے گریڈ 16 سے 18 کے افسران شامل ہیں۔ ان افسران کی برطرفی سے زیرِ تفتیش مقدمات اور عدالتوں میں زیرِ سماعت کیسز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈی جی این سی سی آئی اے نے 258 نئی بھرتیوں کے لیے پی سی ون بھجوا دیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ نئی بھرتیوں سے سائبر کرائم تحقیقات اور پراسیکیوشن کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ تاہم، پرانے کنٹریکٹ افسران کی برطرفی سے ادارے کے اندر تجربہ کار افرادی قوت کے خاتمے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوکری سے فارغ ہونے والوں میں چار ڈپٹی ڈائریکٹرز، 47 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ایک آفس سپرنٹنڈنٹ، سات ٹیکنیکل افسران اور 18 انسپکٹرز شامل ہیں۔ برطرف ہونے والے افسران متعدد بار اپنی نوکریوں کو مستقل کرانے کے لیے کوششیں کر چکے تھے مگر تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن اسد فخرالدین کے خلاف انکوائری مکمل ہونے تک ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کر دی گئی ہے۔
روزنامہ “ممتاز” کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق این سی سی آئی اے کے کنٹریکٹ افسران جنہیں نوکری سے فارغ کیا گیا، ان میں ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹیگیشن نرگس رضا، محمد اقبال، سلیمان اعوان اور محمد علی خان شامل ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹیگیشن کے عہدے سے فارغ ہونے والوں میں محمد علی، محمد شعیب ریاض، طاہرہ حرا، ایم ذیشان حبیب، نوریہ خان، کیلاش بابو، فہد درانی، عمر کلیم، عمران خان، علی رضا جمالدینی، امان اللہ، زاہد بشیر، سید علی رضا گردیزی، محمد آصف نذیر، عاصمہ مجید، ذیشان حمید، علی یزدان بن الیاس، محمد سبطین احمد خان، محمد عمران افضل درانی، نعمان علی، محمد عامر زیب، مزمل حسین، فقیر حسن جمیل، حیدر علی، نویدہ بتول ملک، سعدیہ، رخسانہ بی بی، عمر شہزاد، سلمان ریاض، مظہر حیدر، اسامہ جاوید، حسین علی مغل، عامر علی، عماد گرچ، فصیح رحمان حارث، احسن احمد، نعمان احمد خان، ارشد اقبال، مشیر، سکندر زمان، ایڈوائزر عامر سہیل انجم، ذینہ ظہیر، شیراز خان راجپر، ارباب ارشد سعید، شہاب حسین، سید علی رضوی، زکریا خان، عثمان طاہر، محمد احسن شامل ہیں۔
اسی طرح آفس سپرنٹنڈنٹ محمد عمران، سائبر کرائم تجزیہ کار نجیب الحسن، محمد اعجاز ریاض، ذہیب ظہیر، عروبہ کنول، محسن علی اور طارق خان کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
انسپکٹرز کے عہدے سے برطرف ہونے والوں میں انسپکٹر قدسیہ مہتا، نجف خان، وقاص رضوان، حافظ عمار مظہر، بدر شہزاد خان، اقراء مقدس، محمد توصیف، محمد اویس، اویس احمد، طیبہ فاروق، مسعود احمد، لطف علی، ممتاز حسین، ارفع سعید، دانیال، الیاس خان اور نعمان علی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق افسران کی برطرفی سے این سی سی آئی اے میں جاری تفتیشی عمل، سائبر فرانزک رپورٹس اور پراسیکیوشن کے معاملات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ نئی بھرتیوں کے عمل میں وقت لگنے کی صورت میں ادارہ شدید افرادی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
NCCIA-Phase-III Letter 28-11-2025













جمعرات 12 فروری 2026 