ٹرانس پیرنسی کرپشن انڈیکس، پاکستان کی کارکردگی عالمی اوسط سے بھی کم

Calender Icon جمعرات 12 فروری 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے عالمی کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2025ء میں پاکستان کا اسکور 28؍ رہا، جو 182؍ ممالک کے اوسط اسکور 42؍ سے بہت کم ہے۔ یہ اسکور 2018ء کے مقابلے میں بھی کم ہے، جب پاکستان نے اپنی تاریخ کا بہترین اسکور 33؍ حاصل کیا تھا۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی 2025ء کی رپورٹ میں کہیں بھی پاکستان کی جانب سے گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کی قابلِ تحسین کوششوں کی کوئی ستائش نہیں کی گئی۔ یہ رائے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چیئرمین جسٹس (ر) ضیاء پرویز نے منگل کو جاری کردہ پریس ریلیز میں ظاہر کی۔ تاہم، رابطہ کرنے پر ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے تصدیق کی کہ یہ ریمارکس ادارے کی 2025ء کی عالمی رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اسکور 2024ء میں 27؍ تھا جو 2025ء میں بڑھ کر 28؍ ہو گیا، جبکہ 2024ء کی درجہ بندی میں پاکستان 135ویں نمبر سے 2025ء میں 136ویں نمبر پر جا پہنچا۔ یعنی اسکور میں ایک پوائنٹ بہتری آئی، لیکن درجہ بندی ایک درجہ نیچے چلی گئی۔ تاہم، جن ممالک کا جائزہ لیا گیا ان کی تعداد 2024ء میں 180 تھی جو 2025 میں 182 ہو گئی۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر نے درجہ بندی میں کمی کو بہتری کے طور پر تعبیر کیا۔ جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے دی نیوز کو بتایا کہ ادارہ پاکستان کی پوزیشن کو نیچے سے شمار کرتا ہے، جس کے مطابق 2025ء میں پاکستان 46واں سب سے زیادہ بدعنوان ملک ہے، جبکہ 2024ء میں 45واں سب سے زیادہ بدعنوان ملک تھا۔ تاہم، ادارے نے اپنی پریس ریلیز میں عالمی رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں منفی حوالہ شامل کرنے سے گریز کیا، جس میں کہا گیا ہے: ’’2012ء سے دنیا بھر کے نان کانفلکٹ زونز (غیر جنگی علاقہ جات) میں 829؍ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 90؍ فیصد سے زائد ایسے ممالک میں قتل ہوئے جہاں کرپشن پرسیپشن انڈیکس اسکور 50؍ سے کم تھا، ایسے ممالک میں برازیل، بھارت، میکسیکو، پاکستان اور عراق شامل ہیں، جو بدعنوانی پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کیلئے خصوصاً خطرناک ہیں۔‘‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’۔۔جبکہ 31؍ ممالک نے 2012ء سے مختلف اقدامات سے اب تک اپنی بدعنوانی کی سطح میں نمایاں کمی کی ہے، باقی ممالک اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں، جو یا تو جمود کا شکار رہے یا صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ عالمی اوسط ایک نئی کم ترین سطح 42؍ تک گر چکا ہے، جبکہ دو تہائی سے زائد ممالک کا اسکور 50؍ سے کم ہے۔ اس کی قیمت ان ممالک کے عوام کو چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ بدعنوانی کے باعث اسپتالوں کو مناسب فنڈنگ نہیں ملتی، سیلابی دفاعی منصوبے تعمیر نہیں ہوتے، اور نوجوانوں کی امیدیں اور خواب ٹوٹ رہے ہیں۔‘‘ پاکستان کا اسکور 2025ء کی رپورٹ میں 28؍ رہا، جو 182؍ ممالک کے اوسط اسکور سے بہت کم ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ریکارڈ کے مطابق کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کی بہترین کارکردگی 2018ء میں رہی، جب وہ نیچے سے 64ویں نمبر پر اور مجموعی طور پر 180؍ ممالک میں سے 117ویں نمبر پر تھا۔ اُس سال پاکستان کا اسکور اسکور 33؍ تھا۔ 2019ء میں پاکستان کا اسکور 33؍ سے کم ہو کر 32؍ رہ گیا اور درجہ بندی 180؍ ممالک میں سے 120ویں نمبر پر رہی (نیچے سے 61 واں)۔ 2020ء میں اسکور 32؍ سے کم ہو کر 31؍ ہو گیا اور پاکستان 124ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 57 واں)۔ 2021ء میں اسکور مزید کم ہو کر 28؍ رہ گیا اور پاکستان 140ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 41واں)۔ 2022ء میں اسکور 28؍ سے کم ہو کر 27؍ ہو گیا اور پاکستان دوبارہ 140ویں نمبر پر رہا (نیچے سے 27واں)۔ 2023ء کی رپورٹ میں بہتری دکھائی گئی اور پاکستان کا اسکور بڑھ کر 29؍ ہو گیا۔ تاہم، 2024ء میں اسکور دوبارہ کم ہو کر 27؍ رہ گیا۔ 2025ء کی رپورٹ میں اسکور 28؍ ہے، جو 2024ء کے مقابلے میں ایک پوائنٹ زیادہ ہے، لیکن 2018ء کے بہترین اسکور 33؍ سے اب بھی پانچ پوائنٹ کم ہے۔

انصارعباسی