اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان اور چین کے درمیان زرعی اور لائیوسٹاک شعبے میں تاریخی شراکت داری نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اس پیش رفت میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (Special Investment Facilitation Council) کے تعاون سے دونوں ممالک نے زرعی و لائیوسٹاک تعاون میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ پیش رفت جنوری میں چینی وفد کے پاکستان دورے اور 2026 کی چین-پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس کے بعد سامنے آئی، جس میں زرعی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر اتفاق کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق چین کے ادارے Jinan Animal Husbandry Industry Craftsman College نے پاکستان میں Pak-China Joint Chamber of Commerce and Industry اور Go Dairy کے ساتھ دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
ان معاہدوں کے تحت پاکستان میں
پاکستان-چین اینیمل ہسبنڈری سینٹر
اور
ویٹرنری ٹیکنالوجی سینٹر
کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جن کا مقصد لائیوسٹاک کی افزائش، بیماریوں کی روک تھام اور جدید ویٹرنری مہارت کی منتقلی ہے۔
اس کے علاوہ چین نے پاکستان کی معروف تعلیمی ادارے University of Veterinary and Animal Sciences کے ساتھ مشترکہ تربیتی بیس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جہاں پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو جدید اینیمل ہسبنڈری اور ویٹرنری ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ان معاہدوں سے پاکستان میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں بہتری آئے گی، برآمدات کے مواقع بڑھیں گے اور دیہی معیشت کو تقویت ملے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرعی اور لائیوسٹاک شعبے میں پاکستان اور چین کی یہ شراکت داری نہ صرف غذائی تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی نئی جہت دے گی۔
یہ شراکت داری اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان اور چین زرعی ترقی کو صنعتی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے طویل المدتی تعاون کی راہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔












جمعہ 13 فروری 2026 