نایاب سورج گرہن ’رِنگ آف فائر‘ کیسے بنتا ہے؟

Calender Icon اتوار 15 فروری 2026

17 فروری کو ایک نایاب سورج گرہن رونما ہوگا جسے عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، یہ فلکیاتی مظہر محدود علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جبکہ مکمل ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔

یہ سورج گرہن اس وقت بنتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے لیکن اپنے نسبتاً فاصلے کی وجہ سے سورج کو مکمل طور پر نہیں ڈھانپ پاتا، سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن دائرے کی شکل میں نمایاں رہتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا منظر پیش کرتا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ ڈھانپ لے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ’رِنگ آف فائر‘ کا منظر تقریباً 2 منٹ 20 سیکنڈ تک برقرار رہے گا، جبکہ گرہن کا مجموعی دورانیہ تقریباً 271 منٹ ہوگا۔

اگرچہ مکمل گرہن صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا، تاہم جزوی سورج گرہن افریقا، جنوبی امریکا، بحرالکاہل، بحرِ ہند اور بحرِ اوقیانوس کے بعض حصوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر سے لیس دوربین استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔