جینوا :(ویب ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوسرے دور میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر جینوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے تقریباً تین گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک بنیادی اصولوں پر مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں، جو آئندہ ممکنہ معاہدے کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے مذاکرات کو سنجیدہ اور تعمیری قرار دیا اور بتایا کہ دونوں فریق معاہدے کے مسودوں پر کام کر کے ایک دوسرے سے تبادلہ کریں گے، تاہم فوری طور پر کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کا امکان نہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات بعض پہلوؤں سے حوصلہ افزا رہے، لیکن ایران اب بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متعین کردہ چند ریڈ لائنز تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا فی الحال سفارتی راستہ جاری رکھے گا، تاہم حتمی فیصلے کا اختیار صدر ٹرمپ کے پاس ہوگا۔مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے اضافی فوجی تعیناتی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگلے دور سے قبل تکنیکی اور قانونی نکات پر مزید کام کیا جائے گا۔












بدھ 18 فروری 2026 