جرائم کی شرح میں نمایاں کمی، سی سی ڈی نے ایچ آر سی پی کی رپورٹ مسترد کردی

Calender Icon ہفتہ 21 فروری 2026

لاہور(نیوز ڈیسک) کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی 2024 سے مئی 2025 کے تقابلی جائزے میں صوبے پنجاب، بالخصوص لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سی سی ڈی کے مطابق محکمہ نے گزشتہ سال مئی میں خصوصی آپریشنز کا آغاز کیا تھا اور حالیہ اجلاس میں کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، لاہور میں قتل کے واقعات 361 سے کم ہو کر 220 رہ گئے، جو 39 فیصد کمی ظاہر کرتے ہیں جبکہ اقدامِ قتل کے کیسز 812 سے کم ہو کر 504 ہو گئے، جسے 38 فیصد کمی قرار دیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی کے واقعات 35 سے کم ہو کر 15 اور گھریلو ڈکیتی 33 سے کم ہو کر 6 رہ گئی، راہزنی کے واقعات میں 78 فیصد کمی جبکہ موٹرسائیکل اور گاڑی چھیننے کے واقعات میں بالترتیب 69 اور 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

صوبے بھر کے اعداد و شمار کے مطابق قتل کے واقعات 3,952 سے کم ہو کر 3,022 رہ گئے جو 24 فیصد کمی بنتی ہے جبکہ اقدامِ قتل کے واقعات میں 18 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔

سی سی ڈی کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 19 پولیس اہلکار شہید اور 167 زخمی ہوئے جن میں 13 اہلکار سی سی ڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے سی سی ڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات بے بنیاد ہیں، مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2025 کے پہلے 8 ماہ کے دوران 670 مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔

سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ ادارہ آئین پاکستان اور پولیس آرڈر 2002 کے تحت کام کرتا ہے اور طاقت کا استعمال صرف آخری چارۂ کار کے طور پر کیا جاتا ہے۔