امریکی سینیٹر کی غزہ میں اسرائیل کیجانب سے فلسطینی بچوں کے قتل عام کی کھل کر حمایت

Calender Icon ہفتہ 21 فروری 2026

امریکا کے ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی بچوں کے قتل عام کی حمایت کر دی۔

ایک انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ 7 اکتوبر واقعے کے بعد کے برسوں میں بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ غزہ میں جو کچھ ہوا وہ مسیحی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا، یعنی بچوں کا قتل، عورتوں کا قتل، خاندانوں کا قتل جو عسکریت پسند نہیں تھے۔

سینیٹر لنزے گراہم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دوسری عالمی جنگ میں کیا کیا تھا؟ کیا ہم نے جرمنوں کو بھوکا مارتے ہوئے ایک منٹ بھی سوچا تھا، ہم نے ہر شہر پر بم پھینک کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے، یہ جنگ ہے۔

آپ 7 اکتوبر کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے کر رہے ہیں؟

اس سوال پر لنزے گراہم نے کہا کہ بالکل کر رہا ہوں، یہ یہودی ریاست کے وجود کا خطرہ تھا، 7 اکتوبر کو یہ ہوا تھا کہ 1200 افراد کو ذبح کیا گیا، ریپ کیا گیا، قتل کیا گیا اور اس کی فلمیں بنائی گئیں اور یہ سب ریڈیکل اسلام پسندوں نے کیا جن کے بس میں ہوتا تو وہ ہر ایک یہودی کو قتل کر دیتے، میں دنیا سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا؟

ری پبلکن سینیٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے برلن کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا، ہم نے ٹوکیو کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا، کیا ہم نے ایٹم بم گرا کر غلطی کی تھی تاکہ جاپان کے دورِ تشدد کو ختم کیا جا سکے؟ کیا ہم غلط تھے؟ اس لیے میرے خیال میں اگر اسرائیل کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو اسرائیل نے کیا، فوجی کامیابی کے بغیر انتہا پسندی کو توڑنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔

کتنے امریکی ایسا سوچتے ہیں جیسا آپ سوچتے ہیں؟

اس سوال پر لنزے گراہم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ زیادہ تر ری پبلکن ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتا ہوں۔

انہوں نے انٹرویو لینے والی خاتون سے مزید کہا کہ اگر آپ ری پبلکنز کو نہیں جانتی تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کچھ پتا ہی نہیں ہے، جب معاملہ ریڈیکل اسلام کا آ جائے تو وہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہوں گے، اس کے علاوہ کوئی اور صورت ہو گی ہی نہیں۔