قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

Calender Icon پیر 23 فروری 2026

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردی گئی۔ پی ٹی آئی کے بانی راہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے محمودخان اچکزئی کی تعیناتی کے خلاف آئینی پٹیشن پیر کو دائر کی۔ سپریم کورٹ کے وکیل عمران شفیق اور حنبل مراد صدیقی ایڈووکیٹ بھی مقدمے میں جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی معاونت کریں گے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر قرار دے کر آئین کی متعلقہ شقوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تعیناتی کے لئے اختیار کیاگیا طریقہ کار آزادانہ اور قواعد کے مطابق نہیں جبکہ متعلقہ ارکان اسمبلی کی آزادانہ رائے اور مرضی کے تعین کا قانونی عمل بھی پورا نہیں ہوا جس سے آئین کے آرٹیکل 4 اور 17 میں درج آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اکبر ایس بابر کا موقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن آئین کی سنگین خلاف ورزی کا مظہر ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو جیل میں موجودایک ایسے شخص (عمران خان احمد خان نیازی) نے نامزد کیا جسے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیاجاچکا ہے ۔

پٹیشن کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن قانونی نہیں کیونکہ اس عمل میں قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 39 (تین) کی خلاف ورزی ہوئی اور اس میں درج لازمی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ قاعدہ 39 (تین) میں واضح ہے کہ سپیکر اراکین اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق کے بعدہی سب سے زیادہ عددی طاقت رکھنے والے رکن کو اپوزیشن لیڈر قرار دے گا۔ قانون کے تحت ارکان قومی اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق محض رسمی کارروائی یا صوابدیدی اختیار نہیں ہوتا بلکہ ایک لازمی شرط ہے جسے پورا کرنے کے بعد ہی سپیکر اپوزیشن لیڈر کے اعلان کا مجاز ہے۔ ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کا مطلب آزادانہ طور پر دستخطوں کی صداقت اور رضامندی کی جانچ پڑتال کرناہے۔اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے اعلان کا سپیکر کا اختیار ’خلا‘ میں نہیں بلکہ آزادانہ اور رضاکارانہ رائے کی تصدیق سے مشروط ہے

وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر قرار دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم، غیر قانونی اور قانونی اختیار سے ماورا قرار دیا جائے جس سے پاکستان کے شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق ، آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کی خلاف ورزی ہوئی۔

وفاقی آئینی عدالت سے استدعاکی گئی کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل کسی فرد کو بالواسطہ یا بلاواسط سیاسی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ساتھ ہی ساتھ سپیکر کو ہدایت کی جائے کہ وہ رول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کے تعیناتی کا نیا عمل شروع کریں ۔پٹیشن پر حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو آئین کے آرٹیکل 175 اے، 213 اور 224 اے کے تحت آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے۔