اسلام آباد ( ملک نجیب ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے شہری کی گاڑی روک کر گارڈ کے ذریعے مبینہ تشدد کرانے کے معاملے پر نائب تحصیلدار علی جاوید کو 26 فروری کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار نعمان جاوید عباسی نے اپنی وکیل صدف نعمان ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹریفک جام کے باعث فوری راستہ نہ دینے پر نائب تحصیلدار نے ان کی گاڑی رکوا لی۔ درخواست کے مطابق نائب تحصیلدار کے گارڈ نے نہ صرف درخواست گزار کو تھپڑ مارے بلکہ بدتمیزی اور توہین آمیز رویہ بھی اختیار کیا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نائب تحصیلدار نے اپنی سرکاری حیثیت اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ شہری کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے گاڑی روک کر تضحیک آمیز سلوک بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نائب تحصیلدار کے خلاف محکمانہ انضباطی کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14 اور 25 میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ عدالت نے نائب تحصیلدار علی جاوید کو پٹیشن پر شق وار جواب کے ساتھ 26 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ درخواست میں نائب تحصیلدار علی جاوید، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ بنی گالہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت 26 فروری کو ہوگی۔
شہری پر تشدد وتضحیک الزام،نائب تحصیلدار عدالت طلب
منگل 24 فروری 2026 مزید خبریں
تازہ ترین
شعبہ توانائی میں اصلاحات لا رہےہیں، اویس لغاری
5 گھنٹے قبل












