وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم قومی مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، امیر مقام

Calender Icon بدھ 25 فروری 2026

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم: نوجوانوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، امیر مقام ۔یوا ی ٹی پشاور میں 950 لیپ ٹاپ تقسیم، انجینئرز کیلئے 10 ہزار انٹرن شپس کا اعلانپشاور، 25 فروری:وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم محض ڈیجیٹل آلات کی تقسیم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل میں ریاستی سطح پر سرمایہ کاری ہے۔ آج کی دنیا میں قومیں آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہیں۔وہ بدھ کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) پشاور میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کی تقریب تقسیم سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اپنے مادرِ علمی یو ای ٹی پشاور میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت ان کے لیے اعزاز اور فخر کا لمحہ ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، خوابوں کو سمت ملی اور عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ اسی جامعہ میں باصلاحیت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کسی بھی ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ سڑکوں اور ڈیموں سے لے کر صنعت، آئی ٹی، توانائی اور دفاع تک ہر شعبے میں انجینئرز بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مضبوط معیشت کا انحصار جدید انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پر ہوتا ہے، اور یہ ذمہ داری انجینئرز کے کندھوں پر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور وہی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے ہیں جو سائنسی اور تکنیکی تعلیم میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور انجینئر وہ ہمیشہ انجینئرز کے حقوق اور مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ آج کی تقریب میں 950 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، جو ایک اہم قدم ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے طلبہ کو عالمی آن لائن کورسز، بین الاقوامی تحقیقی لائبریریوں اور جدید تکنیکی مہارتوں تک براہِ راست رسائی ملے گی، جو علم پر مبنی معیشت میں کامیابی کی بنیاد ہیں۔انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اب مقابلہ تعداد کا نہیں بلکہ ذہانت اور مہارت کا ہے۔ حکومت نے ابھرتی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں اہم اقدامات کیے ہیں۔ 2017 میں نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس قائم کیا گیا جو آج ملک میں مصنوعی ذہانت کی تحقیق کا اہم ستون ہے۔ قومی سائبر سکیورٹی سینٹر اور نیشنل سینٹر فار بگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ بھی قائم کیے گئے تاکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کو معاشی ترقی کے اسٹریٹجک محرک کے طور پر آگے بڑھایا گیا جبکہ نوجوان انجینئرز کے لیے پی ایس ڈی پی منصوبوں میں 10 ہزار انٹرن شپس لازمی قرار دی گئیں۔ اس پروگرام کے تحت ہر انجینئر کو ایک سال کے لیے ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، جیسا کہ ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کے دوران دیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام مارچ میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو محض وعدے نہیں بلکہ عملی مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ معیشت کے معمار بنیں۔انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ یو ای ٹی پشاور کے علاوہ یو ای ٹی بنوں، نوشہرہ اور ایبٹ آباد کے طلبہ نے بھی تقریب میں شرکت کی، جو صوبے بھر میں مساوی تعلیمی مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر کی آمد پر وائس چانسلر ڈاکٹر صادق خٹک، فیکلٹی اور انتظامیہ نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں جامعہ کے امور پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے جامعہ کے کردار کو سراہا اور مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر صادق خٹک نے انجینئرنگ برادری کے لیے وفاقی وزیر کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔