نیویارک (ویب ڈیسک )پلاسٹک کے ننھے ذرات ہر جگہ موجود ہیں یعنی خوراک، پانی اور ہوا، وہ ہر جگہ موجود ہیں۔درحقیقت ایک تخمینے کے مطابق ہم ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے حجم کے برابر ذرات ہضم کر جاتے ہیں، مگر اس سے ہمارے جسم کے اندر کیا ہوتا ہے؟
اس بارے میں ابھی تک ٹھوس طریقے سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔مگر اب ایک نئی تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ذرات مردوں میں کینسر کی ایک قسم کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔جوان افراد میں کینسر کی 6 اقسام تیزی سے پھیل رہی ہیں، ماہرین
نیویارک یونیورسٹی کی اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مثانے کے کینسر کے شکار ہر 10 میں سے 9 مردوں کی رسولیوں کے نمونوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔درحقیقت تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ذرات کی تعداد کینسر زدہ رسولیوں میں مثانے کے دیگر ٹشوز کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں پلاسٹک سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ ہمارے اردگرد موجود بیشتر مصنوعات پلاسٹک سے بنتی ہیں یا ان پر پلاسٹک پیکنگ ہوتی ہے۔ان مصنوعات سے پلاسٹک کے بہت چھوٹے ذرات کا اخراج ہوتا ہے جو جسم کے اندر جاسکتے ہیں۔دل اور جگر کے امراض سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں؟ تو ایک مزیدار سوغات مددگار ثابت ہوسکتی ہے
اب تک پلاسٹک کے ننھے ذرات کو انسانی دل، شریانوں، مادر رحم اور دیگر حصوں میں دریافت کیا جا چکا ہے۔اس تحقیق میں مثانے کے کینسر کے شکار 10 مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ن مریضوں نے رسولیوں کو نکالنے کے لیے سرجری کرائی تھی اور 90 فیصد نمونوں میں پلاسٹک کے ذرات کو دریافت کیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات سے مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی تصدیق ہوسکے۔












بدھ 25 فروری 2026 