اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان آج سے اقتصادی جائزہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان تعارفی سیشن شروع ہوگیا، معاشی ٹیم وفد کو ملکی معاشی صورتحال بارے پیشرفت سے آگاہ کرے گی، آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات آئندہ ہفتے تک جاری رہیں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی قیادت مشن چیف ایوا پیٹروا اور ماہر بنیچی جبکہ معاشی ٹیم کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں، مذاکرات میں گورنر سٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ سمیت اہم عہدیدار شریک ہیں، بات چیت میں پاکستان کے معاشی نقطہ نظر اور معاشی کارکردگی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دوران بریفنگ بتایا کہ میکرو اکنامک استحکام اور مالیاتی استحکام مضبوط ہو رہا ہے، مالیاتی نظم و ضبط بہتر، ریزرو بفرز کی تعمیر نو کے ساتھ مستحکم ہوا ہے، افراط زر اعتدال اور پائیدار برآمدی ترقی کے راستے پر منتقل ہوا ہے۔
جائزہ مشن سے مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز 25 فروری کو کراچی سے ہوا، آئی ایم ایف نے حکومت سے ریونیو شارٹ فال پر رپورٹ طلب کر رکھی ہے، ایف بی آر مذاکرات میں آئی ایم ایف کو ٹیکس محاصل پر رپورٹ پیش کرے گا، مالی سال کے 8 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 457 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشن کو سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس سمیت محاصل میں کمی کی وجوہات بتائی جائیں گی، جائزہ مشن کے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز سے الگ الگ مذاکرات بھی شیڈول ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر سے متعلق اصلاحاتی عمل و اہداف بارے پیشرفت کا جائزہ شامل ہے، پاور سیکٹر گردشی قرض اہداف پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش ہوگی، بجلی کی تقیسم کار کمپنیوں کے نقصانات بارے جائزہ بھی مذاکرات کا حصہ ہیں، کرپشن اور گورننس بارے حکومتی اقدامات کا جائزہ بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔












پیر 2 مارچ 2026 