قومی ٹیم کے سابق اسپنر اور کوچ ثقلین مشتاق نے اپنے داماد شاداب خان اور آل راؤنڈر محمد نواز کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں انہیں درست انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
پاکستان ٹیم سری لنکا کے خلاف سپر ایٹ مرحلے کا آخری میچ جیتنے کے باوجود سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی، قومی ٹیم نے 213 رنز اسکور کیے تھے اور نیٹ رن ریٹ بہتر بنانے کے لیے سری لنکا کو 147 رنز تک محدود کرنا ضروری تھا، تاہم سری لنکن ٹیم مطلوبہ ہدف سے صرف 5 رنز کم رہی جس کے باعث پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
میچ کے ایک مرحلے پر پاکستان کو نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کے لیے 147 کے ہدف کے دفاع میں 27 رنز روکنے تھے، شاداب خان نے ایک اوور میں 15 اور 19 ویں اوور میں 18 رنز دیے، یوں 2 اوورز میں مجموعی طور پر 33 رنز دیے، جس پر شائقین اور ماہرین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
تاہم ثقلین مشتاق نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذمے داری کسی ایک کھلاڑی پر ڈالنا درست نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آل راؤنڈرز کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، بولنگ آل راؤنڈر، بیٹنگ آل راؤنڈر اور مکمل آل راؤنڈر۔
ثقلین مشتاق نے کہا کہ جن کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا وہ دونوں شعبوں میں صلاحیت رکھتے تھے، مگر انہیں درست حکمتِ عملی کے تحت استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب میں ٹیم کے ساتھ تھا تو سلیکشن کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ شاداب اور نواز بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں، لیکن ان کی کارکردگی کا انحصار درست استعمال پر ہے، اگر دونوں کو بہتر انداز میں مواقع دیے جاتے تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
ثقلین مشتاق نے دیگر بین الاقوامی آل راؤنڈرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے مچل سینٹنر اور بھارت کے اکشر پٹیل کی کارکردگی بھی دیکھی جائے۔
ان کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے شاداب اور نواز سے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں ضرورت سے زیادہ توقعات وابستہ کیں اور انہیں مناسب انداز میں استعمال نہیں کیا۔
واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں شاداب خان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی، انہوں نے 6 میچز میں 5 وکٹیں حاصل کیں، 152 رنز دیے اور بیٹنگ میں 118 رنز اسکور کیے۔












منگل 3 مارچ 2026 