رام گوپال ورما کا امریکا ایران کشیدگی پر متنازع بیان، جنگ کو مذہبی معرکہ قرار دے دیا

Calender Icon بدھ 4 مارچ 2026

ممبئی (نیوز ڈیسک)بھارتی فلم ساز رام گوپال ورما نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے دو مذاہب کے درمیان جنگ قرار دیا اور کہا کہ وہ اسی فریق کا مذہب اختیار کریں گے جو اس جنگ میں کامیاب ہوگا۔

رام گوپال ورما نے کہا کہ وہ اس تنازع کو دو مختلف عقائد کے درمیان جدوجہد سمجھتے ہیں اور جس جانب فتح ہوگی وہ اسی مذہب کو اپنا لیں گے۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس سے قبل ورما نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں بات کرتے ہوئے طاقت کے اصول کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنی فلم Sarkar کا مکالمہ دہراتے ہوئے لکھا کہ
“جس کے پاس طاقت ہوتی ہے، اس کا غلط بھی صحیح بن جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ صحیح ہیں کیونکہ ان کے پاس طاقت ہے۔”

یکم مارچ کو انہوں نے اس جنگ کو فلمی مقابلے سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ امریکا اور ایران کے تنازع کا اسی طرح انتظار کر رہے تھے جیسے فلموں کے باکس آفس مقابلے کا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف انسان مریں گے اور دوسری طرف پیسہ ڈوبے گا۔

رام گوپال ورما نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میزائل حملوں کے بعد خامنہ ای منظر عام سے غائب ہیں جبکہ ٹرمپ کھلے عام سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے خود بخود نتیجہ اخذ ہو جاتا ہے۔

رام گوپال ورما کے ان بیانات کے بعد بھارتی اور بین الاقوامی سطح پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں کئی افراد نے ان کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔