ایران جنگ مزید 10 روز جاری رہی تو میزائل ذخائر میں کمی کا خدشہ ہے: پینٹاگون کا انتباہ

Calender Icon بدھ 4 مارچ 2026

امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ طویل ہوئی تو اس کے متعدد خطرات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر پر بھاری اخراجات بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔

پینٹاگون سے لیک ہونے والی اطلاعات کے مطابق اگر امریکا مزید 10 دن تک ایران پر حملے جاری رکھتا ہے تو اہم میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ کے نتیجے میں اسلحے کے ذخائر کی تیزی سے کمی اور ان کی دوبارہ تیاری پر غیر معمولی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم گزشتہ روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ امریکی اسلحے کے ذخائر اتنے وسیع ہیں کہ ان کی مدد سے جنگ ہمیشہ لڑی جا سکتی ہے۔

کون سے ہتھیار کم پڑ سکتے ہیں؟

الجزیرہ کے مطابق امریکی ذخائر میں شامل بعض ہتھیار، خصوصاً انٹرسیپٹر میزائل چند ہی دنوں میں کم ہو سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت پینٹاگون حکام نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف طویل جنگ کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم اسلحے کی کمی ایرانی جوابی حملوں کا مؤثر جواب دینے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور یوکرین جیسے اتحادیوں کو فوجی امداد فراہم کرنے کے بعد امریکا کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر، خصوصاً میزائل دفاعی نظام کے لیے اہم ہتھیار پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

گزشتہ سال ایران کے ساتھ جھڑپوں میں امریکا نے اپنے تھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹرز کا تقریباً 25 فیصد استعمال کیا تھا، جس میں 150 میزائل ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے داغے گئے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس دوران بحری جہازوں سے داغے جانے والے انٹرسیپٹر میزائل بھی ختم ہو گئے تھے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکا جدید درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور اہم دفاعی نظام، بشمول تھاڈ کے ذخائر تیزی سے کھو سکتا ہے، ان میں جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز (JDAMs) بھی شامل ہیں، جو عام بموں کو جی پی ایس کی مدد سے انتہائی درست نشانے والے اسمارٹ ہتھیاروں میں تبدیل کرتے ہیں۔

پیر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت امریکا اور اس کے اتحادیوں کی دفاعی انٹرسیپٹر تیاری کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کے مطابق ایران ہر ماہ 100 سے زائد میزائل تیار کر رہا ہے، جبکہ امریکا بمشکل 6 یا 7 انٹرسیپٹرز تیار کر پاتا ہے۔

مزید برآں جہاز سے داغے جانے والے اسٹینڈرڈ میزائل-3 (SM-3) کے ذخائر بھی محدود ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سست رفتار پیداوار، یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں اور ایران کے ساتھ سابقہ محاذ آرائیاں ہیں۔

ایران سے جنگ امریکا کو کتنی مہنگی پڑی؟

رپورٹس کے مطابق ایران پر حملوں کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی امریکا تقریباً 779 ملین ڈالرز (تقریباً 6,900 کروڑ روپے) خرچ کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعے کی سہ پہر امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں، 3 گھنٹے بعد انہوں نے ایک بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔

جوابی کارروائی میں ایران بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا رہا ہے۔