برطانیہ (ویب ڈیسک)اسکاٹ لینڈ نے بوائل ان اے بیگ کے نام سے آخری رسومات کی نئی تکنیک متعارف کرائی ہے جس میں لاشوں کو تحلیل کیا جاتا ہے۔ 1885ء کے بعد برطانیہ کا یہ پہلا حصہ اسکاٹ لینڈ ہوگا جس نے تدفین کے قوانین میں سب سے بڑی تبدیلی متعارف کرائی ہے۔
یہ متبادل تکنیک جسے الکلائن ہائیڈولیسس کا نام دیا گیا ہے کو ایک ماحول دوست متبادل طریقہ قرار دیا جا رہا ہے اس میں بڑی مقدار میں قدرتی گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق نئے طریقہ کار میں مردہ جسم کو بایو ڈیگریڈیبل کفن میں لپیٹا جاتا ہے جو اکثر ریشم یا اون سے بنا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اسے اسٹیل کے دباؤ والے چیمبر میں رکھا جاتا ہے جس کے بعد ٹینک کو 95 فیصد پانی اور 5 فیصد الکلائن کیمیکل جیسے پوٹاشیم ہائیڈرو آکسائیڈ سے بنا مائع سے بھرا جاتا ہے، پانی کو 150 سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے، 3 سے 4 گھنٹوں کے دوران جسم تحلیل ہونے کا عمل مکمل ہوتا ہے تو تابوت میں دہائیوں تک ممکن نہیں ہوتا۔ بعد ازاں اس مائع کو ٹھنڈا کر کے نالوں میں بہا دیا جاتا ہے (کائنڈلی ارتھ) جس کے پاس اسکاٹ لینڈ میں الکلائن ہائیڈرولیسس کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فضلہ مائع جراثیم سے پاک ہے اور اس میں کوئی ٹھوس چیز یا ڈی این اے نہیں ہے۔
پروسیسنگ کے بعد ہڈیوں کو احتیاط کے ساتھ خشک کر کے باریک سفید پاؤرڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے اور ایک راکھ کی شکل میں لواحقین کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اس پراسس کی قیمت سینٹر سے دوری اور مقام پر منحصر ہے ۔












بدھ 4 مارچ 2026 