نیب کو سیاسی مفاد سے بالاتر ،مضبوط و مؤثر بنایا جائے، سینیٹر عبدالقادر

Calender Icon جمعرات 5 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی مدتِ ملازمت میں تسلسل سے متعلق پیش رفت ملک کے احتسابی نظام کے استحکام کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس حوالے سے بل کی منظوری کے موقع انہوں نے کہا کہ ملک میں احتسابی اداروں کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔گزشتہ چند برسوں میں نیب کی کارکردگی کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں، تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ قیادت کے دوران ادارے میں کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ان اصلاحات کا مقصد احتساب کے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور مؤثر بنانا تھا۔ طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ نیب کے طریقۂ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ کرپشن کے خلاف کاروائیوں میں غیر ضروری تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت میں تسلسل کی تجویز دراصل اسی سوچ کا تسلسل ہے کہ اگر کوئی افسر اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دے رہا ہو تو اسے ادارے میں اصلاحات مکمل کرنے کا مناسب وقت ملنا چاہیے۔ احتسابی اداروں میں قیادت کی بار بار تبدیلی نہ صرف پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کرتی ہے بلکہ ادارہ جاتی کارکردگی کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ احتسابی نظام کی اصل طاقت اس کی غیر جانبداری، پیشہ ورانہ مہارت اور تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ اگر اہل اور دیانت دار افسران کو کام جاری رکھنے کا موقع دیا جائے تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کو احتسابی ڈھانچے کے استحکام کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شفافیت، میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ احتساب کا عمل بلاامتیاز اور مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔ یہی راستہ ملک میں مضبوط طرزِ حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنا سکتا ہے۔