نئی دہلی(نیوز ڈیسک) انتہاپسند نریندر مودی کے زیر اقتدار بھارت میں مسلمانوں کی وفاداری ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بھارت سے ہزاروں کلومیٹر دور جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھارتی مسلمانوں کیلئے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ اور مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کی وفاداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق بعض بھارتی مسلمانوں کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر سوگ منانے کے عمل کو ہندو انتہا پسند عناصر نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندو حلقے موجودہ صورتحال میں تمام بھارتی مسلمانوں کو غدار اور بے حس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ من گھڑت پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ بھارتی مسلمان مبینہ دہشتگرد حملوں پر خاموش رہتے ہیں لیکن غیر ملکی رہنماؤں پر سوگ مناتے ہیں۔
جریدے کے مطابق ہندوتوا نظریے پر کاربند بھارت میں غم، تنقید یا خاموشی بھی مذہبی بنیادوں پر طے ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی تنازعات کے تناظر میں مودی حکومت مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے محض مسلمان دشمنی کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے۔
مبصرین کے مطابق مذہب کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر کے بھارتی مسلمانوں کو غدار قرار دینا مودی کے ہندو راشٹرا کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔












اتوار 8 مارچ 2026 