نان ننگ (شِنہوا) چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے کے کاؤنٹی سطح کے شہر پھنگ گو کی لہراتی زمین کا منظر سبز زمردی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ چاول کے کھیت، گنا اور سب ٹراپیکل موسم کے منفرد پھل وسیع رقبے پر پھیلے پرسکون کھیتوں میں نظر آتے ہیں، جن کے اوپر کبھی کبھار زرعی ڈرون کی تیز آواز گونجتی ہے۔مقامی طور پر ہان جون کے نام سے جانے جانے والے انگریزی کے پاکستانی استاد اور سوشل میڈیا انفلوئنسر حافظ تنویر حمید کے لئے یہ منظر نہ صرف اس کے کام کرنے کی جگہ ہے بلکہ ایک ڈیجیٹل کینوس بھی ہے۔ انہوں نے پھنگ گو میں ایک پیشہ ورانہ کالج میں کئی سال تدریس کی اور دیہی تبدیلی کو دستاویزی شکل دی جو ان کے خیال میں ان کے وطن کے لئے بھی ایک نمونہ بن سکتی ہے۔چین نے حال ہی میں بیجنگ میں دو اجلاسوں کے دوران اپنے 15 ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کا مسودہ جاری کیا جس میں اعلیٰ معیار کی وسعت اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر زور دیا گیا، جو حمید کے تجربات کے مطابق ہے۔ منصوبہ ماحول دوست ترقی، ڈیجیٹل معیشت، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبوں میں چین کی ٹیکنالوجی میں حاصل کردہ ترقی کو عالمی برادری کے ساتھ بانٹنے کی طرف ایک تزویراتی موڑ کو ظاہر کرتا ہے۔چین کی “اعلیٰ معیار کی ترقی” کے محاذ پر موجود حمید کے لئے یہ دستاویز محض بیوروکریٹک اختیار نہیں بلکہ حافظ تنویر حمید۔حمید نے کہا کہ ماحول دوست توانائی، ڈیجیٹل معیشتوں اور مصنوعی ذہانت کو ترجیح دینے سے ایسا ماحول پیدا ہوگا جس سے پاکستان جیسے ممالک اپنی ترقی کے لئے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پھنگ گو کے انتظام کے ذمہ دار شہر بائس میں تبدیلی کا دائرہ حیرت انگیز حد تک وسیع ہے۔2025 تک شہر کی اناج کی پیداوار 11 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی لیکن اصلی قیمتی پھل بائس کا مخصوص آم ہے، جو ایک ٹراپیکل پھل ہے۔ تقریباً 2 لاکھ 59 ہزار 840 ہیکٹر پر محیط آم کی صنعت کی مالیت تقریباً 111.35 ارب یوآن (تقریباً 16.1 ارب امریکی ڈالر) ہے۔حمید ان باغات کے قریب رہتے ہیں۔ انہوں نے صدیوں پرانے تجارتی عمل کو ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ دیکھا ہے۔حمید نے کہا کہ ’’ سروے کرنے اور چھڑکنے کے لئے بغیر پائلٹ والے فضائی ڈرون کا استعمال نہ صرف ایک نظارہ ہے بلکہ درستگی کے ساتھ جراحی کا ایک آلہ بھی ہے۔ یہ کیمیکل کے ضیاع کو کم کرتا ہے اور مزدوری کی لاگت کو گھٹاتا ہے‘‘۔ان کے نزدیک پاکستان کے لئے سب سے فوری موقع خشک آب و ہوا کے لئے موزوں مضبوط فصلوں اور سستی فضائی ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے زرعی خطوں میں فوری اور معنی خیز فوائد لا سکتا ہے۔ طویل مدت میں ڈیٹا پر مبنی انتظامی ٹولز ملک بھر میں پیداوار بڑھانے اور کام کو ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔یہ مماثلت کھیتوں سے آگے افق تک پھیلی ہوئی ہے۔ بائس کی پہاڑی زمینوں میں حمید دیکھتے ہیں کہ ہوا کے ٹربائن پہاڑی چوٹیوں پر گھوم رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو ان کے خیال میں سندھ کے ساحلی علاقوں سے بلوچستان کے دھوپ والے میدانوں تک دہرایا جانا چاہیے۔توانائی کے شعبے میں مسودہ آئندہ دہائی میں غیر فوسل توانائی کے استعمال کو دوگنا کرنے پر زور دیتا ہے تاکہ موجودہ فوسل ایندھن کو ہوا، شمسی اور ہائیڈرو پاور جیسے صاف متبادل سے تبدیل کیا جا سکے۔ یہ 2030 تک اپنی بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک بڑھانے کے پاکستان کے ہدف سے نہایت ہم آہنگ ہے۔ حمید کے مطابق چین کی گرڈ جدیدیت اور توانائی ذخیرہ کرنے کی مہارت کلیدی عنصر ہے۔عملی طور پر تعاون بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فروری میں لیو ژو میں واقع کارساز کمپنی ایس اے آئی سی-جی ایم-وولنگ نے پاکستان کو بنگو ای ویز کا اپنا پہلا بیچ برآمد کیا۔حمید نے یہ گاڑیاں ٹیسٹ کی ہیں۔ انہوں نے کار ساز کو سراہا کہ انہوں نے دکھایا کہ سستی الیکٹرک گاڑیاں کس طرح عملی اور جدید ہو سکتی ہیں۔ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ چین کی نئی توانائی والی گاڑیاں “عالمی سطح پر” جانے سے پاکستان کو ماحول دوست نقل و حمل اپنانے میں مدد ملے گی اور چینی کمپنیاں صرف برآمد سے آگے بڑھتے ہوئے اسمبلی اور انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری کریں گی۔حمید نے کہا کہ ایسا تعاون نہ صرف گاڑیوں کی قیمتیں کم کرے گا بلکہ مقامی تکنیکی صلاحیت بھی پیدا کرے گا اور پاکستان کے صاف ٹرانسپورٹ کی طرف منتقلی کو تیز کرے گا۔شاید سب سے نمایاں تبدیلی ڈیجیٹل دنیا میں ہے جہاں چین نئی ٹیکنالوجیز کو حیران کن رفتار اور پیمانے پر اپناتا ہے، ہوٹل میں ڈیلیوری روبوٹس سے لے کر ڈیپ سیک جیسے جنریٹو اے آئی پلیٹ فارمز تک، جنہیں حمید روزانہ استعمال کرتے ہیں۔حمید نے کہا کہ میں تعلیمی ماحول میں ان سسٹمز کی جوابی صلاحیت سے بہت متاثر ہوں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کے موجودہ رجحان کے پیش نظر مسودہ ڈیجیٹل ذہانت کی سطح کو بلند کرنے کے لئے ایک حصہ مختص کرتا ہے۔ ڈیجیٹل خود مختاری کو آگے بڑھانے کے لئے یہ منصوبہ کمپیوٹنگ طاقت، الگورتھمز اور ڈیٹا کی اعلیٰ کارکردگی کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔انہیں امید ہے کہ پاکستان جلدسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ، ڈیجیٹل صحت عامہ اور حقیقی وقت میں زرعی نگرانی سمیت اے آئی پر مبنی عوامی خدمات اپنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹولز کلیدی شعبوں میں کارکردگی اور رسائی کو ڈرامائی طور پر بہتر کر سکتے ہیں۔استاد ہونے کے ناطے حمید ٹیلنٹ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل سمجھتے ہیں۔پاکستان کے لئے اے آئی شعبے کو بڑھانے کی خاطر حمید کا کہنا ہے کہ مشترکہ تحقیق، نوجوان انجینئرز کی تکنیکی تربیت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر تک آگے بڑھانے کا راستہ چین کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے میں ہے۔
چینی ترقی کا نیا روڈ میپ دو طرفہ فائدے کا محرک ہے،حافظ تنویر حمید
منگل 10 مارچ 2026












