تہران (نیوزڈیسک)ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ جب تک دشمن کی توپیں خاموش نہیں ہوجاتیں، لڑتے رہیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران مکمل طور پر تیار ہے اور جب تک ضروری ہوا اپنے میزائل حملے جاری رکھے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات فی الحال ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیونکہ ماضی میں بات چیت کا تجربہ بہت تلخ رہا ہے۔ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔
انھوں نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا کہ آپ سے زیادہ طاقتور لوگ بھی ایرانی قوم کو ختم نہیں کرسکے اس لیے خود محتاط رہیں کہیں آپ ہی ختم نہ ہوجائیں۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران کرے گا اور اگر حملے جاری رہے تو خطے سے تیل کی برآمدات روکنے کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔خیال رہے کہ ایران کی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
اسی دوران سعودی عرب کی تیل کمپنی سعودی آرامکو کے سربراہ امن نصیر نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث بڑی مقدار میں تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور اگر جنگ طویل ہوگئی تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات پڑسکتے ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی کہا ہے کہ ایران جنگ بندی کا خواہاں نہیں اور جارحیت کرنے والے کو ایسا سبق سکھایا












منگل 10 مارچ 2026 