مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے معاملے پر بھارت کے متضاد اور دوغلے رویے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مبصرین کے مطابق بھارت ایک ہی وقت میں ایران اور امریکا دونوں سے رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی موقف کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور خطرناک صورتحال کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار نمایاں ہے۔
اسی رابطے کے دوران بھارتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بھارتی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم ایران کے ایک سفارتی ذریعے نے اس قسم کے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں کی جس کے باعث اس معاملے پر ابہام برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے بھارت کی خارجہ پالیسی کے متضاد پہلو کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف بھارت امریکا اور اسرائیل کے قریب کھڑا نظر آتا ہے جبکہ دوسری طرف اپنے معاشی مفادات کے لیے ایران کے امریکا مخالف مؤقف کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔
مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں امریکا کے دباؤ پر بھارت نے چابہار بندرگاہ منصوبے سے اپنی کمپنی واپس بلا لی تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت کو عالمی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت طلب کرنا پڑ رہی ہے تو یہ اس کے خودمختاری کے دعووں کو بھی کمزور کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں مسلسل بدلتے ہوئے مؤقف کے باعث عالمی سطح پر اس کی حکمت عملی اور ترجیحات پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔












جمعہ 13 مارچ 2026 