افغان طالبان کے ظلم، دہشت گردوں کی پشت پناہی اور افغان سیاسی قیادت کی بڑھتی ہوئی مزاحمت میں شدت

Calender Icon پیر 16 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کی پالیسیوں، دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرپرستی اور پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث افغان سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کھل کر تنقید سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نہ صرف عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے بلکہ اندرونِ ملک عوامی اور سیاسی مزاحمت بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان کے سابق نائب صدر سرور دانش نے کہا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف ملک میں پائیدار امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے باعث افغانستان کو بیرونی خطرات سے بھی دوچار کر دیا گیا ہے۔

سرور دانش کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان سب کے لیے نہیں ہوگا تو پھر یہ کسی کے لیے بھی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنا یا اسے تسلیم کرنا قانونی جواز سے خالی ہے کیونکہ موجودہ نظام عوامی حمایت سے محروم ہے۔

اسی طرح عبدالرشید دوستم نے بھی طالبان حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند اور جبر آمیز حکمرانی نہ صرف ناکام ہو چکی ہے بلکہ افغان عوام کے بنیادی حقوق کے لیے بھی سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ ان کے مطابق طالبان کے خلاف مزاحمت میں تیزی آ رہی ہے اور اسے کسی بھی صورت روکا نہیں جا سکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی پالیسیوں اور شدت پسند گروہوں سے مبینہ روابط نے افغانستان میں سیاسی اور عوامی ردعمل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بڑھتی ہوئی داخلی مزاحمت افغانستان کے مستقبل کے لیے اہم اور تشویشناک اشارے دے رہی ہے۔