پاکستان اور چین کا صحت،زراعت اور معدنیات کے شعبہ جات میں اے آئی پر مبنی شراکت داری کو مضبوط کرنے پر اتفاق

Calender Icon بدھ 18 مارچ 2026

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اور چین نے صحت، زراعت اور معدنیات کے شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی مؤثر حکمت عملی کے باعث پاکستان جدید ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال سے تحقیق، جدت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ دونوں ممالک نے زراعت، طبی مصنوعی ذہانت، معدنیات اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دو طرفہ تعاون تکنیکی جدت اور طبی تحقیق کے ذریعے صحت کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ زراعت کے شعبے میں جدید طریقوں کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین اسمارٹ اور ڈیجیٹل زراعت کے فروغ کے لیے مشترکہ مصنوعی ذہانت لیبارٹری کے قیام پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس لیبارٹری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار، سپلائی چین اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

حالیہ پاک چین بزنس ٹو بزنس زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں تقریباً 80 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ 4.5 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے طے پائے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

چینی صنعتکاروں کے مطابق پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ چین کے پاس کان کنی کی جدید تکنیکی مہارت موجود ہے، اور دونوں کا امتزاج ترقی کے بے شمار مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل پاکستان میں زراعت، صحت اور معدنیات کے شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جس سے ملکی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔